مشرق وسطیٰ

اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کی انتہا، فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز عید کی ادائیگی سے روک دیا

فلسطینی رہنماؤں اور مذہبی شخصیات نے اس اقدام کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بار بار ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

یروشلم :  اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کو نماز عید ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 1967 کے بعد پہلی بار رمضان کے اختتام پر مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند رکھا گیا اور فلسطینیوں کو نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا۔

یروشلم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے عید کے موقع پر مسجدِ اقصیٰ کے اطراف غیر معمولی سیکیورٹی سخت کر دی اور متعدد داخلی راستوں کو بند کر دیا۔ اس دوران ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے باعث وہ نمازِ عید ادا نہ کر سکے۔

متعلقہ خبریں
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کے خلاف قرارداد منظور
غزہ میں پہلا روزہ، اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا
وزیر خارجہ ملایشیا، فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیت کی وکالت کریں گے
اسرائیلی فائرنگ میں پانچ افراد فوت

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں نے مختلف علاقوں سے آنے والے نمازیوں کی سخت تلاشی لی اور کئی افراد کو زبردستی واپس بھیج دیا۔ بعض مقامات پر جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں، جہاں فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔

فلسطینی رہنماؤں اور مذہبی شخصیات نے اس اقدام کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بار بار ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عبادت گاہوں تک رسائی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔

واضح رہے کہ مسجدِ اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جہاں دنیا بھر کے مسلمان عبادت کے لیے خصوصی عقیدت رکھتے ہیں۔ عید جیسے اہم موقع پر وہاں نماز کی ادائیگی سے روکنا نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔