شمالی بھارت

تلخ حقیقت کہ اسلام اور مسلمانوں کو دیکھ کر ہی بعض لوگوں کو اپنا مذہب یاد آتا ہےویڈیو وائرل

دوہرا معیار تشویشناک ہے۔ ایک طرف اکثریتی مذہبی نعروں کو قوم پرستی یا مذہبی آزادی کے نام پر برداشت کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اقلیتوں کے پُرامن مذہبی عمل کو خطرہ سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے

 جہاں ایک طرف میرٹھ میٹرو (Meerut Metro) میں مسلم مسافروں کو دیکھ کر “بھارت ماتا کی جے” اور “جے شری رام” جیسے نعرے لگانا بعض افراد کے لیے قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف اگر کوئی مسلمان عوامی مقام پر خاموشی سے  قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہوا نظر آ جائے تو صورتحال بالکل الٹ ہو جاتی ہے۔

حال ہی میں، تقریباً تین روز قبل، Noida کی ایک ٹرین میں ایک بزرگ مسلمان خاموشی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے کہ اچانک ان پر حملہ کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بزرگ نہ کسی کو اشتعال دلا رہے تھے، نہ بلند آواز میں کچھ کہہ رہے تھے، بلکہ اپنے مذہبی عمل میں مصروف تھے۔ اس کے باوجود ان کے ساتھ تشدد کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف نعرے یا آواز کا نہیں بلکہ شناخت کا ہے۔

سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دوہرا معیار تشویشناک ہے۔ ایک طرف اکثریتی مذہبی نعروں کو قوم پرستی یا مذہبی آزادی کے نام پر برداشت کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اقلیتوں کے پُرامن مذہبی عمل کو خطرہ سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے بلکہ سماج میں خوف، عدم تحفظ اور نفرت کو بھی فروغ دیتا ہے۔

دانشوروں کے مطابق اگر عوامی مقامات پر ایک طبقے کو اپنے مذہب کے اظہار کی کھلی اجازت ہو اور دوسرے طبقے کو اسی عمل پر سزا دی جائے، تو یہ مساوات، سیکولرزم اور قانون کی بالادستی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ ایسے واقعات اگر بروقت روکے نہ گئے تو سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ کئی صارفین نے اسے اقلیتوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ بعض نے عوامی مقامات پر مذہبی نعروں کے ذریعے نفرت پھیلانے پر سوال اٹھائے ہیں۔ دانشور طبقے کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ جیسے مقامات پر اس طرح کا رویہ نہ صرف آئینی اقدار کے خلاف ہے بلکہ سماج میں خوف اور تقسیم کو بھی فروغ دیتا ہے۔