فضاؤں میں اڑ کر اپنی منزل تک پہنچنا آسان،آئی آئی ٹی حیدرآباد کے فیکلٹی ارکان نے سوپر ایئر ٹیکسی تیار کی
سنگاریڈی ضلع کے کندی کیمپس میں فیکلٹی ممبر دیپک جان میتھیو اور ان کے ساتھی کیتن چترمتھا نے اس ایئر ٹیکسی کا پروٹو ٹائپ نمونہ پیش کیا۔ یہ ایئر ٹیکسی 120 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی رفتار 60 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔
حیدرآباد: انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) حیدرآباد نے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کا ایک جدید اور انقلابی حل پیش کرتے ہوئے ایئر ٹیکسی ایجاد کی ہے۔ عام طور پر سڑکوں پر چند منٹوں کا سفر ٹریفک کی وجہ سے گھنٹوں پر محیط ہو جاتا ہے لیکن مستقبل میں یہ سوپر ایئر ٹیکسی اس پریشانی کو ختم کر دے گی۔
سنگاریڈی ضلع کے کندی کیمپس میں فیکلٹی ممبر دیپک جان میتھیو اور ان کے ساتھی کیتن چترمتھا نے اس ایئر ٹیکسی کا پروٹو ٹائپ نمونہ پیش کیا۔ یہ ایئر ٹیکسی 120 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی رفتار 60 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔
اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر خودکار ہوگی یعنی اس میں پہلے سے پروگرام شدہ نیویگیشن سسٹم موجود ہوگا جس کی وجہ سے مسافروں کو اسے چلانے یا کسی قسم کی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
محققین کے مطابق یہ ٹکنالوجی نہ صرف عام مسافروں کے لیے وقت کی بچت کرے گی بلکہ ہنگامی طبی خدمات، جیسے انسانی اعضاء کی تیزی سے منتقلی کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہوگی جہاں ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے۔
اگرچہ اس منصوبہ کو ابھی ڈائرکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن سے حتمی منظوری ملنا باقی ہے لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تمام آزمائشیں مکمل ہونے کے بعد 2026 یا 2027 تک یہ ایئر ٹیکسی تجارتی طور پر دستیاب ہوگی۔ وہ دن دور نہیں جب ٹریفک میں پھنسنے کے بجائے لوگ فضاؤں میں اڑ کر اپنی منزل تک پہنچیں گے۔