“جیل اب میری زندگی بن چکی ہے” — سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمر خالد کا جذباتی بیان، اپوزیشن کا سخت ردعمل
سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سازش کیس میں سماجی کارکن عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سازش کیس میں سماجی کارکن عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) قانون (یو اے پی اے) کے تحت ابتدائی طور پر مضبوط شواہد موجود ہیں۔ تاہم، اسی معاملے میں نامزد پانچ دیگر ملزمین کو عدالت نے ضمانت دے دی، جس کے بعد اس فیصلے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمر خالد نے اپنے قریبی شخص کے ذریعے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “جیل اب میری زندگی بن چکی ہے، لیکن مجھے خوشی ہے کہ باقی لوگوں کو ضمانت مل گئی”۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حقیقت کو قبول کر چکے ہیں کہ انہیں ابھی مزید جیل میں رہنا ہوگا، مگر ساتھیوں کی رہائی پر انہیں اطمینان ہے۔
عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ اس کیس میں تمام ملزمین کا کردار ایک جیسا نہیں ہے اور “شمولیت کی سطح” کے اصول کے تحت کچھ افراد کے خلاف الزامات زیادہ سنگین نوعیت کے ہیں۔ اسی بنیاد پر عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہیں دی گئی، جبکہ دیگر پانچ افراد کو راحت دی گئی۔
ضمانت پانے والوں میں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد شامل ہیں۔ تمام ملزمین پر یو اے پی اے اور تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے، اور الزام ہے کہ وہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کی سازش میں شامل تھے۔
واضح رہے کہ فروری 2020 کے دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ان فسادات کے بعد کئی سماجی کارکنوں اور طلبہ رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ شرجیل امام کو جنوری 2020 میں اور عمر خالد کو ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا، اور تب سے دونوں جیل میں ہیں، جبکہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت ابھی تک شروع نہیں ہو سکی۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں نے سوال اٹھایا کہ جب ملزمین پانچ سال سے زائد عرصے سے بغیر ٹرائل کے جیل میں ہیں تو “ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا” کا اصول کیوں لاگو نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک قبل از سماعت قید بنیادی حقوق اور تیز انصاف کے اصول کے خلاف ہے۔
اپوزیشن نے یو اے پی اے کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس قانون کا استعمال اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کچھ رہنماؤں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دیگر مقدمات میں سزا یافتہ قیدیوں کو بار بار پیرول مل رہی ہے، جبکہ یہاں زیرِ سماعت ملزمین برسوں سے جیل میں ہیں۔
عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ ملنے کے بعد دہلی فسادات سے جڑا یہ معاملہ ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ قانونی ماہرین، سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں اس فیصلے کو عدالتی شفافیت، ذاتی آزادی اور یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تناظر میں دیکھ رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کیس سے جڑی سماعتیں اور سیاسی ردعمل مزید توجہ حاصل کرنے کا امکان ہے۔