دہلی

اقلیتی عبادت گاہوں پر حملوں کے خلاف مشترکہ اجلاس

ملک میں نفرت کا ماحول تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے اور مساجد و گرجا گھروں پر حملوں کے باوجود انتظامیہ اور اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے

  • اجلاس میں متفقہ طور پر درج ذیل فیصلے کیے گئے:
  • اقلیتی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی ٹیم اور قانونی دفاعی فنڈ کا قیام۔
  • مسجد کمیٹیوں کو قانونی معلومات اور انتظامی نوٹس سے نمٹنے کی تربیت۔
  • وقف بورڈز میں سیاسی مداخلت کے خلاف منظم آواز۔
  • غیر قانونی مسماری سے متاثرہ افراد کو فوری قانونی و انسانی امداد۔ اس تحریک کو دہلی سے باہر دیہی اور متاثرہ علاقوں تک وسعت دینا

نئی دہلی  : ملک بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں، غیر قانونی مسماری، قانونی ہراسانی اور انتظامی زیادتیوں کے خلاف انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) اور ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے نئی دہلی میں ایک اہم مشترکہ اجلاس منعقد کیا۔

متعلقہ خبریں
نفرت کی سیاست ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے،فرقہ پرستی نے ملک کے امن کو خطرے میں ڈال دیا:مولانا ارشد مدنی
سودی نظام کے خاتمہ کے بغیر غربت کا خاتمہ ممکن نہیں: نویں سالانہ اجلاس سیوا سوسائٹی محبوب نگر
منی پور کی صورتحال پر وزارت ِ داخلہ میں کل اہم میٹنگ
ریلائنس فاؤنڈیشن کا سی ایم ریلیف فنڈ میں 20کروڑ کا عطیہ
ٹی ڈبلیو اے ٹی کا میجسٹک ہوٹل نامپلی میں اجلاس

اجلاس کی صدارت سابق چیف جسٹس پٹنہ ہائی کورٹ جسٹس اقبال احمد انصاری نے کی اجلاس میں سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ، آئی ایم سی آر کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی، عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی اور ضیاء الرحمن برق، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ حمد اللہ سعید، سابق فوجی افسر میجر جنرل جاوید اقبال، سابق آئی اے ایس افسر و سفیر اشوک شرما، سپریم کورٹ کے سینئر وکلا ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے اور فضیل احمد ایوبی، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان۔ آل انڈیا پیس مشن کے صدر سردار دیا سنگھ، کیندریہ سنگھ سبھا کے صدر سردار خوشحال سنگھ، سماجی کارکنان، صحافی اور مختلف مذاہب کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد ادیب نے کہا کہ ملک میں نفرت کا ماحول تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے اور مساجد و گرجا گھروں پر حملوں کے باوجود انتظامیہ اور اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے اور اب خاموش رہنا ممکن نہیں۔

سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کہا کہ مساجد اور مدارس کو دیگر مذاہب کے لوگوں کے لیے کھولا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں۔ انہوں نے مدارس میں عصری تعلیم کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ اجلاسوں کے ساتھ ساتھ عملی حکمتِ عملی اور زمینی جدوجہد ناگزیر ہے۔ انہوں نے اتراکھنڈ میں کشمیری نوجوانوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی۔

عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ ظلم کسی ایک مذہب تک محدود نہیں، بلکہ تمام کمزور طبقات اس کا شکار ہیں، اس لیے جدوجہد کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں شرکاء نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض ریاستوں میں سرکاری مشینری قانون کے بجائے طاقت کے استعمال کا ذریعہ بن رہی ہے۔ خاص طور پر اتراکھنڈ میں رائج ’’بلڈوزر کلچر‘‘ کی مذمت کی گئی، جہاں عدالتی احکامات کے باوجود مساجد اور دیگر مذہبی ڈھانچوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اجلاس دو سیشن پر مشتمل تھا، پہلا سیشن ملک بھر سے آئے ہوئے مسجد کمیٹیوں کے ذمہ دران کے لئے تھا جبکہ دوسرا سیشن عام پبلک میٹنگ رہا۔

اجلاس میں ماہرین نے بتایا گیا کہ ملک بھر میں تقریباً 2500 مساجد کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ عیدگاہوں، قبرستانوں اور مدارس کی زمینیں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ضبط کی جا رہی ہیں، جس سے اقلیتی برادری کے مذہبی اور سماجی وجود کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

گڑگاؤں میں تبلیغی جماعت پر حملے، ہلدوانی میں بغیر نوٹس مسماری، تراویح اور محرم کے جلوسوں کے روایتی راستوں میں زبردستی تبدیلی جیسے واقعات کو آئین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اجلاس میں سکھ، عیسائی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے نمائندوں نے بھی اپنے مسائل پیش کیے اور کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک مذہب کا نہیں بلکہ تمام شہریوں کے آئینی حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ سکھ رہنماؤں نے گڑگاؤں میں مساجد بند ہونے کے دوران گوردواروں میں نماز کی اجازت کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قرار دیا۔

شرکاء نے یاد دلایا کہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کا قانون مذہبی مقامات کی حیثیت میں تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا، اس کے باوجود اس کی خلاف ورزیاں مسلسل ہو رہی ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر محمد ادیب نے کہا کہ اقلیتوں کے آئینی اور مذہبی حقوق سنگین خطرے میں ہیں اور قانون و آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے متحدہ جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔اجلاس کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے سکھ افراد کو اعزازات سے بھی نوازا گیا، جسے ملک کی مشترکہ تہذیب کی علامت قرار دیا گیا۔