قومی

انصاف مشینوں سے نہیں، بلکہ حساس اورقابل لوگوں سے ملتا ہے سی جے آئی سوریہ کانت

سی جے آئی نے کہا کہ انصاف مشینوں سے نہیں، بلکہ حساس اور قابل لوگوں سے ملتا ہے اور اسی سمجھ کے ساتھ ہمیں ایک جامع، مضبوط اور انسانی انصاف کے نظام کی تشکیل کی سمت مسلسل آگے بڑھنا ہوگا

پٹنہ 🙂 سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (سی جے آئی) سوریہ کانت نے سنیچر کو کہا کہ انصاف مشینوں سے نہیں، بلکہ حساس اورقابل لوگوں سے ملتا ہے اور اسی فہم کے ساتھ عدالتی نظام کو ایک جامع، مضبوط اور انسانی انصاف کے نظام کی تشکیل کی سمت مسلسل آگے بڑھنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں
اڈانی کوئلہ درآمد کیس، چیف جسٹس کو 21 تنظیموں کا مکتوب
پٹنہ میں اپوزیشن اتحاد کا شاندار مظاہرہ
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
طاہر حسین کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آج پٹنہ ہائی کورٹ کے احاطے میں سات مختلف عمارتوں اور ڈھانچوں کے افتتاح کے بعد ججوں، وکلا اور اعلیٰ افسران کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

سی جے آئی نے کہا کہ انصاف مشینوں سے نہیں، بلکہ حساس اور قابل لوگوں سے ملتا ہے اور اسی سمجھ کے ساتھ ہمیں ایک جامع، مضبوط اور انسانی انصاف کے نظام کی تشکیل کی سمت مسلسل آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاٹلی پترکی سرزمین نظم و ضبط، منطق اور انتظامی بصیرت کی علامت رہی ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں سے جدید انتظامیہ، اخلاقیات اور عوامی فلاح و بہبود کے تصورات فروغ پاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹنہ ہائی کورٹ ایک آئینی ادارے کے طور پر نہ صرف آئین کے نفاذ کا گواہ رہا ہے بلکہ حقوق اور آزادیوں کے مسلسل فروغ کے سفر کا بھی ایک اہم مرکز رہا ہے۔

مسٹر سوریہ کانت نے کہا کہ صدیوں سے جو عنصر ہمارے اداروں کو ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے، وہ ادارہ جاتی صلاحیت میں سرمایہ کاری ہے خواہ وہ مادی وسائل ہوں، انتظامی ڈھانچہ ہو یا انسانی وسائل۔ جب ہم صلاحیت سازی کی بات کرتے ہیں تو اس کا براہ راست تعلق انصاف تک مؤثر رسائی سے ہوتا ہے۔ اس کا مقصد ایسا عدالتی نظام تیار کرنا ہے جو بڑھتی ہوئی آبادی، مقدمات کی تعداد اور تنازعات کی پیچیدگی جیسے چیلنجز کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط اور مؤثر انتظامیہ عدالتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ فائلوں کی منظم دیکھ بھال، ریکارڈ کا تحفظ اور عدالتی فیصلوں کا مؤثر انتظام یہ سب کام بظاہر معمولی لگتے ہیں، لیکن انہی سے عدالتی کارکردگی یقینی بنتی ہے۔ جب انتظامیہ خوش اسلوبی سے کام کرتی ہے تو جج اپنے بنیادی فرائض پر زیادہ توجہ مرکوز کر پاتے ہیں اور انصاف کے طلبگاروں کو ایک شفاف اور قابل اعتماد نظام کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

سی جے آئی نے کہا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی، ادارہ جاتی استحکام کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ ڈیجیٹل، ڈیٹا پر مبنی اور صارف مرکوز نظام نہ صرف تاخیر کو کم کرتے ہیں بلکہ شفافیت میں اضافہ کرتے ہیں اور بزرگوں، معذور افراد اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے انصاف کو زیادہ قابل رسائی بناتے ہیں۔ یہی حقیقی معنوں میں انصاف تک رسائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی شمولیت کا ذریعہ بنے، نہ کہ اخراج کا۔ اس کے لیے رازداری، اعتبار اور ڈیجیٹل عدم مساوات کے تئیں حساس نقطۂ نظر اپنانا ہوگا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نظام کی روح انسانی وسائل ہیں۔ تربیت، صلاحیت سازی اور مسلسل سیکھنے کے عمل سے ہی عدالتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ عدالت کے احاطے کو صرف تنازعات کے تصفیے کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، مکالمے اور تعاون کا مرکز بھی بننا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عدالتی نظام سے وابستہ تمام افراد کی جسمانی اور ذہنی فلاح و بہبود بھی انصاف کا لازمی حصہ ہے۔

مسٹر سوریہ کانت نے تاریخ کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ چمپارن سے حاصل ہونے والا سبق ہمیں ایک مضبوط یاد دہانی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں سب سے بلند نہیں، بلکہ درست آواز سننی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کوان لوگوں سے مسلسل جڑے رہنا چاہیے جن کی وہ خدمت کرتے ہیں۔ اس بات کی توقع ہے کہ عدالتیں آئین سازوں کی دانش سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں اور اپنے ہر فیصلے میں گہرے عوامی فریضہ شناسی کی عکاسی کریں۔

سی جے آئی نے آج پٹنہ ہائی کورٹ کے احاطے میں اے ڈی آر عمارت، آڈیٹوریم، آئی ٹی عمارت، انتظامی بلاک، ملٹی لیول کار پارکنگ، اسپتال، رہائشی کمپلیکس اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کا افتتاح کیا جبکہ گیا میں ججوں کے لیے تعمیر کردہ گیسٹ ہاؤس کا ای۔افتتاح بھی کیا۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے جج احسان الدین امان اللہ، جج راجیش بندل، پٹنہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سدھیر سنگھ سمیت پٹنہ ہائی کورٹ کے دیگر ججز موجود تھے۔ اس پروگرام سے اڑیسہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنگم ساہو ورچوئل ذریعہ سے منسلک ہوئے۔ تقریب میں بہار حکومت کے چیف سیکریٹری پرتیہ امرت اور بہار حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل پی کے شاہی بھی موجود تھے۔ تقریب کے اختتام پر پٹنہ ہائی کورٹ کے جج راجیو رنجن پرساد نے شکریہ ادا کیا۔