منبر پر قرآن مجید رکھنا
قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے؛ اس لئے جیسے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح اس کا احترام کرنا بھی ضروری ہے، کون سا عمل احترام کے خلاف ہے اور کون سا عمل احترام کے خلاف نہیں؟
سوال: آج کل مساجد میں موجود منبروں پر قرآن مجید کو رکھا جاتا ہے، یہ عمل شرعی اعتبار سے کیسا ہے؟
(تبریز احمد، شاهین نگر)
جواب:قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے؛ اس لئے جیسے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح اس کا احترام کرنا بھی ضروری ہے، کون سا عمل احترام کے خلاف ہے اور کون سا عمل احترام کے خلاف نہیں؟
اس سلسلہ میں قرآن وحدیث اور لوگوں کا عرف معیار ہے، جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ استنجاء کرتے وقت چہرہ یا پشت قبلہ کی طرف نہ کرو، اس سے معلوم یہ ہوا کہ یہ عمل احترام قبلہ کے خلاف ہے، اسی طرح فقہاء نے بعض باتوں کو عرف کی بناء پر احترام کے خلاف مانا ہے، جیسے قبلہ یا قرآن مجید یا دینی کتابوں کی طرف پاؤں پھیلانا، اور یہ بھی لکھا ہے کہ جب نیچے پاؤں پھیلائے ہوا ہو اور قرآن مجید اوپر ہو تو کوئی حرج نہیں: یکرہ ان یمد رجلیہ فی النوم وغیرہ الی القبلۃ أو المصحف أو کتب الفقہ الا أن تکون علی مکان مرفع (فتح القدیر: ۱؍۴۲، نیز دیکھئے: النھر الفائق: ۱؍۲۸۷)
منبر پر قرآن مجید رکھنے کے سلسلہ میں میرے علم کے مطابق ہندوستان کا عرف یہ ہے کہ اگر اوپر والے زینہ پر قرآن مجید رکھا جائے، جس پر کھڑا نہیں ہوا جاتا ہے اور نہ بیٹھا جاتا ہے تو اس کو خلاف ادب نہیں سمجھا جاتا ، نچلے اور درمیانی زینہ- جس پر کھڑے ہوتے ہیں اور بیٹھتے ہیں –
ان پر کسی غلاف کے بغیر قرآن مجید رکھنے کو خلاف ادب سمجھا جاتا ہے، اور اگر قرآن مجید جزودان کے اندر ہو یا رحل کے اوپر ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا؛
اس لئے اگر بغیر رحل یا جزودان کے نچلے یا درمیانی زینہ پر قرآن مجید رکھا جائے تو یہ ادب کے خلاف ہوگا، اس سے بچنا چاہئے اور اگر کسی جگہ عرف اس کے خلاف ہو تو اس کا حکم الگ ہوگا، اصولی بات یہی ہے کہ جہاں قرآن مجید کے ساتھ جس عمل کو ادب کے خلاف سمجھا جاتا ہو، وہاں وہ عمل مکروہ ہوگا۔
٭٭٭