طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں اور اخلاقی کردار کی تشکیل میں اساتذہ کا کلیدی کردار: ڈاکٹر سید شفیع الدین اعجاز
ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ اساتذہ ہی طلبہ کی زندگیوں میں مثبت انقلاب برپا کر سکتے ہیں اور ان میں تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی انتھک محنتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو محض تجارتی بنیادوں پر نہیں بلکہ عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
حیدرآباد،: شانگریلا گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کے 30 برس کی تکمیل کے موقع پر شانگریلا ادبی فورم کے زیرِ اہتمام ایک شاندار ادبی اجلاس اور سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ تقریب اعجاز حسین میموریل ہال، شانگریلا انگلش اسکول، موتی دروازہ، گولکنڈہ میں منعقد ہوئی، جس میں طلبہ، طالبات، اساتذہ، سرپرستوں اور شائقینِ ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شانگریلا گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید شفیع الدین اعجاز نے کہا کہ آج کے دور میں طلبہ اگرچہ ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں، مگر ان میں اخلاقی اقدار کا فقدان پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شانگریلا گروپ کی بنیادی کوشش یہی ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی اخلاقی تربیت بھی کی جائے تاکہ وہ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر افراد سے بہتر طرزِ عمل اختیار کر سکیں۔
ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ اساتذہ ہی طلبہ کی زندگیوں میں مثبت انقلاب برپا کر سکتے ہیں اور ان میں تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی انتھک محنتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو محض تجارتی بنیادوں پر نہیں بلکہ عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ سرپرست جناب سید رفیع الدین صفدر کی سرپرستی میں شانگریلا گروپ آف انسٹی ٹیوشنس نے گولکنڈہ کے علاقے میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادارے سے فارغ التحصیل کئی طلبہ آج ملک اور بیرونِ ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
ڈاکٹر اعجاز نے سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں اور خصوصاً موبائل فون کے بے جا استعمال سے انہیں محفوظ رکھیں، کیونکہ اگرچہ موبائل فون آج کی ضرورت ہے، لیکن اس کا غلط استعمال نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
تقریب کے دوران ایک شاندار سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ بھی منعقد ہوا جس میں عالمی شہرت یافتہ شاعر سردار سلیم کے علاوہ عارف سیفی، محترمہ مہک کیرانوی، ڈاکٹر معین افروز، فیض جنگ اور لطیف الدین لطیف نے اپنا کلام پیش کیا۔ لطیف الدین لطیف کے مزاحیہ کلام نے محفل کو قہقہوں سے بھر دیا۔ سامعین نے تمام شعرا کو بھرپور داد دی۔
آخر میں ڈائریکٹر ڈاکٹر سید شفیع الدین اعجاز نے تمام مہمانوں، شعرا اور شرکا کا شکریہ ادا کیا، جس کے ساتھ ہی محفل اختتام پذیر ہوئی۔