حیدرآباد

گوپن پلی تانڈہ میں سرکاری اراضی پر مٹی ڈمپنگ کے خلاف احتجاج، مکانات کو خطرے کا خدشہ

گوپن پلی تانڈہ میں سرکاری اراضی پر مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مٹی ڈمپ کیے جانے کے خلاف مقامی افراد نے شدید احتجاج کیا۔ مکینوں کا الزام ہے کہ نلّہ گنڈلہ تالاب کی صفائی کے دوران نکالی جانے والی مٹی گزشتہ ایک ماہ سے سروے نمبر 34 میں واقع سرکاری اراضی پر ڈالی جا رہی ہے، جس کے باعث قریبی مکانات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

حیدرآباد: گوپن پلی تانڈہ میں سرکاری اراضی پر مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مٹی ڈمپ کیے جانے کے خلاف مقامی افراد نے شدید احتجاج کیا۔ مکینوں کا الزام ہے کہ نلّہ گنڈلہ تالاب کی صفائی کے دوران نکالی جانے والی مٹی گزشتہ ایک ماہ سے سروے نمبر 34 میں واقع سرکاری اراضی پر ڈالی جا رہی ہے، جس کے باعث قریبی مکانات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق، رات کے اوقات میں بڑے ٹپّروں اور لاریوں کے ذریعے مٹی کے متعدد چکر لگائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی مقدار میں مٹی جمع ہونے سے بارش کے دوران مٹی کھسکنے اور مکانات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

بدھ کے روز بڑی تعداد میں مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے مٹی ڈمپ کرنے کا کام فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے متعلقہ حکام سے صورتحال کا فوری جائزہ لینے اور عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔

احتجاج کی اطلاع ملنے پر گچی باؤلی ڈویژن کے سابق کارپوریٹر گنگادھر ریڈی، بی آر ایس رہنما راگم ہری شنکر یادو اور شیرلنگم پلی کے ریونیو انسپکٹر اندر سینا ریڈی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے مقامی افراد سے بات چیت کرتے ہوئے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

بارش میں حادثات کا خدشہ

مقامی خاتون ریشما نے الزام عائد کیا کہ رات کے وقت سیکڑوں ٹپّروں کے ذریعے مٹی ڈالی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید بارش کی صورت میں مٹی کھسک کر مکانات پر گر سکتی ہے، جس سے جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔

ریشما کے مطابق، حادثے کے اندیشے کے باعث مقامی افراد خوف میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مٹی ڈمپ کرنے کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ مٹی ڈالنے کا کام فوری طور پر روکا جائے۔

مقامی افراد نے مزید الزام لگایا کہ ہائیڈرا کے نام پر گزشتہ ایک ماہ سے جے سی بی مشینوں اور لاریوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر مٹی ڈالی جا رہی ہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر شدید بارش ہوئی تو جمع شدہ مٹی کے باعث پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے اور قریبی مکانات میں پانی داخل ہونے یا دیگر حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اب تک ڈالی گئی مٹی کو بھی وہاں سے ہٹایا جائے، مٹی ڈمپنگ فوری طور پر روکی جائے اور سروے نمبر 34 کی اراضی سے متعلق صورتحال کی مکمل جانچ کی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مٹی کے ڈھیر کے باعث کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔

مقامی افراد نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، مٹی ڈمپنگ کے حوالے سے الزامات کی جانچ کی جائے اور رہائشیوں کو لاحق خطرات کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔