گڈی ملکاپور میں مرادنگر کے نوجوان کا قتل
حیدرآباد میں ضابطہ اخلاق کے نفاذ اور پولیس کی مستعدی کے باوجودقتل کی وارداتیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ کل رات گڈی ملکاپور میں قتل کی ایک اور واردات پیش آئی۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں ضابطہ اخلاق کے نفاذ اور پولیس کی مستعدی کے باوجودقتل کی وارداتیں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ کل رات گڈی ملکاپور میں قتل کی ایک اور واردات پیش آئی۔
پولیس ذرائع کے بموجب مراد نگر کے رہنے والے 22 سالہ ثنااللہ جواپنے دوست کے ساتھ موٹر سیکل پر گھر واپس ہورہے تھے کہ پلیرنمبر 65 کے پاس 2نامعلوم افراد نے ان کا سل فون چھینے کی کوشش کی مگر ثناء اللہ نے اپنا فون دینے سے انکار کردیا جس پر حملہ آواروں نے ان پر چاقووں سے حملہ کردیا۔جس کے نتیجہ میں وہ برسر موقع ہلاک ہوگئے اور حملہ وار فرار ہوگے۔
اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس مقام واردات پہونچی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حملہ آواروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ پولیس چوکس نہ ہونے کی وجہ سے قتل کی یہ واردات پیش آئی۔
انتخابات کے موقع پر پولیس کوچوکس رہناچاہے تھا۔ تلاشی مہم میں شدت ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ تمام حساس اورانتہائی حساس مقامات پر پولیس کی تعیناتی اہم مانی جاتی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ پولیس عدم چوکسی ومستعدی سے ایک بے قصورنوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جس کا کون ذمہ دار ہے؟ ثنااللہ فٹ پاٹ پر کاروبار کرتے تھے۔