بھارت

امید پورٹل پر اوقافی جائیدادوں کے اندراج کی آخری تاریخ میں توسیع نہیں: رجیجو

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کیرن رجیجو نے جمعہ کے روز وقف قانون کے تحت UMEED پورٹل پر وقف املاک کی رجسٹریشن سے متعلق ایک اہم اعلان کیا۔

نئی دہلی: وزیر امور اقلیت کرن رجیجو نے جمعہ کو امید(UMEED) پورٹل پر اوقافی جائیدادوں کے اندراج کے لئے آخری تاریخ میں توسیع کو مسترد کردیا تاہم کہا کہ ان کے لئے ایک راستہ نکالا جائے گا جنہوں نے رجسٹریشن کروانے کی کوشش کی مگر اس کی تکمیل نہیں کرسکے اور یہ کہ انہیں آئندہ تین ماہ تک جرمانہ سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں
وقف ترمیمی بل چور دروازے سے اوقافی جائیدادوں کو غصب کرنے کی سازش: مشتاق ملک
وقف بورڈ کا ریکارڈ روم مہر بند کرنے کا معاملہ، ہائیکورٹ جج سے تحقیقات کا مطالبہ
شاہی عیدگاہ ٹرسٹ اور وقف بورڈ کی درخواستوں کی یکسوئی
مسلم میت ہیلپ لائن سے 5 ہزار روپے جاری
درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے ترقیاتی کاموں کا جلد آغاز ہوگا

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 9 لاکھ رجسٹر شدہ اوقافی جائیدادوں کے منجملہ تاحال 1.51 لاکھ جائیدادیں امید پورٹل پر درج کروائی جاچکی ہیں۔ اس لحاظ سے ملک بھر میں بہ مشکل 16.6 جائیدادوں کا ہی اندراج ہوپایا ہے۔وزیر نے زور دیا کہ جومتولی نے پورٹل پر اندراج نہیں کرواپائے ہیں وہ متعلقہ وقف ٹریبونل سے رجوع ہوں۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ قانون ترمیمی وقف 2025 کی دفعہ 3(B) رو سے اس قانون کے نفاذ تک جو جائیدادیں درج اوقاف ہیں، ان کا اندراج مرکزی حکومت کی جانب سے بنائے گئے پورٹل پر اس کے آغاز کے اندرون 6 ماہ کروانا لازم تھا اور جو متولی اور نگران کار اس پورٹل پر اپنی زیر نگرانی اوقافی جائیدادوں کا اندراج نہیں کروا سکے وہ وقف ٹریبونل سے رجوع ہوں اور اوقافی جائیدادوں کے اندراج کروانے سے قاصر رہ جانے کی وجوہات سے ٹریبونل کو آگاہ کرتے ہوئے اپنے لئے مہلت طلب کریں اور ٹریبونل مناسب تصور کرے تو وہ درخواست گزار کو اندراج کے لئے مزید 6 ماہ تک کی توسیع فراہم کرسکتا ہے۔

 اسی طرح اس قانون کی دفعہ 61(ii)  یہ کہتی ہے کہ اگر متولی‘ اپنے زیر انتظام اوقافی جائیداد کا اندراج کروانے سے قاصر رہ جانے کی معقول وجہ سے عدالت یا ٹریبونل کو مطمئن نہ کرپائے تو وہ جرمانہ کا مستوجب ہوگا جو بیس ہزار روپے سے کم نہیں مگر پچاس ہزار روپے تک ہوسکتا ہے۔

کرن رجیجو کے مطابق پورٹل پر اندراج کی یہ مدت جمعہ کی شب ختم ہورہی ہے تاہم وقف بورڈس کو مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مراسلت کے مطابق یہ مہلت 6/دسمبر کی شب تک رہے گی جیسا کہ صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے ادعا کیا ہے۔

 رجیجو نے کہا ”قانون وقف میں ترمیم کے بعد ہم نے امید (UMEED) پورٹل شروع کیا اور پورٹل پر تمام اوقافی جائیدادوں کے متعلقہ فریقین کی جانب سے رجسٹر کروانے 6 ماہ کی مدت دی گئی۔ آج آخری دن ہے اور لاکھوں اوقافی جائیدادیں ہنوز رجسٹر نہیں کروائی گئیں۔“

انہوں نے یہ بھی کہا ”کئی ارکان پارلیمنٹ اور سماجی قائدین نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے درخواست کی کہ 9 لاکھ سے زائد اوقافی جائیدادوں کے اندراج میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، اس لئے آخری تاریخ میں توسیع کی جائے۔ اب تک زائد از 1.51 لاکھ اوقافی جائیدادوں کا امید پورٹل پر اندراج ہوچکا ہے۔“

 رجیجو نے کہا چند ریاستوں جیسے کرناٹک اور پنجاب اور جموں و کشمیر نے اچھا کام کیا ہے جب کہ دیگر چند پیچھے رہ گئے۔ چند مقامات پر امید پورٹل سست رہا جب کہ چند لوگوں کے پاس دستاویزات نہیں تھے۔

 انہوں نے کہا ”میں تمام متولیوں کو تیقن دیتا ہوں جنہوں نے کوشش کی مگر رجسٹریشن کا عمل مکمل نہیں کرسکے، ہم آپ کے لئے ایک راہ تلاش کریں گے اور آئندہ تین ماہ تک ہم کوئی جرمانہ عائد نہیں کریں گے یا کوئی سخت کارروائی نہیں کریں گے۔ تین ماہ میں رجسٹریشن کروالیں۔“

 انہوں نے کہا کہ جو لوگ پورٹل پر اندراج سے قاصر رہ گئے انہیں اپنے متعلقہ ٹریبونلس سے رجوع ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ اپنی ہدایات میں واضح ہے کہ تاریخ میں توسیع نہیں کی جاسکتی۔ حکومت نے وزارت امور اقلیت کے ذریعہ کہا ہے کہ وہ وقف انتظام کو عصری بنانے کی عہد بند ہے اور اقلیتی برادریوں کے فائدہ کے لئے اوقافی جائیدادوں کے کامل ترقیاتی امکان کو بڑھارہی ہے۔