حیدرآباد

حیدرآباد میں پانی بچانےکیلئے بڑا فیصلہ، سوئمنگ پول بند!

حیدرآباد کے علاقے کومپلی میں پانی کی قلت کے خدشات کے پیش نظر بیما پرائیڈ اپارٹمنٹ کی انتظامیہ نے پانی کی بچت کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ اپارٹمنٹ میں موجود کمیونٹی سوئمنگ پول کو بند کردیا گیا ہے، جبکہ گاڑیوں کو دھونے اور فرش کی صفائی کے لیے پانی کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

حیدرآباد کے علاقے کومپلی میں پانی کی قلت کے خدشات کے پیش نظر بیما پرائیڈ اپارٹمنٹ کی انتظامیہ نے پانی کی بچت کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ اپارٹمنٹ میں موجود کمیونٹی سوئمنگ پول کو بند کردیا گیا ہے، جبکہ گاڑیوں کو دھونے اور فرش کی صفائی کے لیے پانی کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اپارٹمنٹ کے رہائشیوں نے یہ فیصلہ اس مقصد سے کیا ہے کہ دستیاب پانی کو غیر ضروری کاموں میں استعمال کرنے کے بجائے پینے اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات کے لیے محفوظ رکھا جاسکے۔

اپارٹمنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی اور آئندہ بارشوں کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر یہ احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ رہائشیوں کی کوشش ہے کہ آنے والے آٹھ ماہ کے دوران پانی کی فراہمی کو برقرار رکھا جاسکے اور گرمیوں میں ممکنہ قلت کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی سے تیاری کی جائے۔ اسی لیے پانی کے زیادہ استعمال والی سرگرمیوں کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سوئمنگ پول کی فوری بندش کے ساتھ گاڑیوں کی دھلائی اور فرش صاف کرنے کے لیے پانی کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں پانی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرکے دستیاب ذخیرے کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے پینے کے پانی اور گھر کے دیگر ضروری کاموں کے لیے مناسب مقدار میں پانی دستیاب رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حیدرآباد میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ال نینو سے متعلق موسمی حالات کے باعث بارشوں میں کمی کے امکان نے بھی پانی کی دستیابی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اگر بارشیں کم ہوتی ہیں تو زیر زمین پانی کے ذخائر دوبارہ بھرنے کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب، بورویل کے ذریعے پانی حاصل کرنے پر مسلسل انحصار سے زیر زمین پانی کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے بیما پرائیڈ اپارٹمنٹ کے رہائشیوں نے ممکنہ قلت پیدا ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی پانی کی کھپت کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ پانی کو تفریحی سرگرمیوں اور ایسے کاموں میں استعمال کرنے سے گریز کیا جائے جنہیں محدود کیا جاسکتا ہے، تاکہ پینے کے پانی اور دیگر ضروری گھریلو استعمال کے لیے فراہمی متاثر نہ ہو۔

حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے اشوک ریڈی نے بیما پرائیڈ اپارٹمنٹ ایسوسی ایشن کے اس اقدام کی ستائش کی ہے۔ انہوں نے ایسوسی ایشن کے صدر سمپت ریڈی، ایگزیکٹیو کمیٹی کے ارکان اور تمام رہائشیوں کو رضاکارانہ طور پر پانی بچانے کے لیے اقدامات کرنے پر مبارکباد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ تفریحی سہولتوں کے مقابلے میں پینے کے پانی کو ترجیح دینا سماجی ذمہ داری کی مثال ہے اور اس سے شہر کی دیگر رہائشی سوسائٹیوں کو بھی ترغیب مل سکتی ہے۔

اشوک ریڈی نے حیدرآباد کی دیگر گیٹیڈ کمیونٹیز اور اپارٹمنٹ ایسوسی ایشنوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پانی کے استعمال کا جائزہ لیں اور اسے ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے صرف سرکاری محکموں کی کوششیں کافی نہیں ہیں، بلکہ عوام اور رہائشی سوسائٹیوں کا تعاون بھی ضروری ہے۔

انہوں نے اپارٹمنٹ انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ پانی کی پائپ لائنوں میں ہونے والی لیکیج کو فوری طور پر درست کیا جائے، پانی کے استعمال پر نظر رکھی جائے، جہاں ممکن ہو استعمال شدہ پانی کو دوبارہ کام میں لایا جائے اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کو درست حالت میں رکھا جائے۔

حکام کے مطابق، بیما پرائیڈ اپارٹمنٹ کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ روزمرہ کی سرگرمیوں میں معمولی تبدیلیاں کرکے بھی پانی کی خاطر خواہ بچت کی جاسکتی ہے۔ اگر شہر کی دیگر رہائشی سوسائٹیاں بھی اسی طرح پانی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے اقدامات کریں تو مستقبل میں ممکنہ قلت کے اثرات کو کم کرنے اور عوام کے لیے پینے کے پانی کی دستیابی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔