ممتا بنرجی نینو گراؤنڈ سے مودی کو جواب دیں گی
وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے 28 جنوری کو اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں وزیر اعظم نے گزشتہ اتوار کے روز اپنے دورے میں انہيں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
کولکاتہ: مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں چند ماہ باقی رہ جانے کے ساتھ سنگور ایک بار پھر سیاسی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے 28 جنوری کو اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں وزیر اعظم نے گزشتہ اتوار کے روز اپنے دورے میں انہيں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
یہ فیصلہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے گزشتہ اتوار کے روز ٹاٹا نینو گراؤنڈ کے دورے کے محض چند دن بعد سامنے آیا ہے، جہاں انہوں نے دو پروگراموں میں شرکت کرکے وزیر اعلی ممتابنرجی پر سخت حملہ کیا تھا۔ وزیرِ اعظم نے پہلے ایک اجلاس کی صدارت کی اور بعد ازاں عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حکمراں ترنمول کانگریس پر مختلف امور پر سخت تنقید کی تھی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ اسی مقام پر اجلاس منعقد کریں گی اور مختلف سرکاری اسکیموں کے فوائد مستحقین میں تقسیم کریں گی۔
ریاستی سکریٹریٹ نبنّہ کے ذرائع نے بتایا کہ وہ بنگلار باڑی (بنگلہ آواس) اسکیم کے تحت پختہ مکانات کی تعمیر کے لیے تقریباً 16 لاکھ خاندانوں کو مالی امداد کی پہلی قسط بھی جاری کریں گی۔
ترنمول کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اعلانات کے علاوہ ممتا بنرجی اس اجلاس سے مضبوط سیاسی پیغام بھی دے سکتی ہیں۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وہ وزیرِ اعظم اور بی جے پی کو منہ توڑ "جواب” دے سکتی ہیں۔
ہگلی ضلع کے ترنمول کانگریس کے ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم کی ریلی کے فوراً بعد پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو وزیرِ اعلیٰ کے سنگور پروگرام کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دے دی گئی تھی۔ بعد ازاں وزیرِ اعلیٰ کے سکریٹریٹ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ ممتا بنرجی نے 28 جنوری کو جلسہ عام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد سرکاری اور پارٹی سطح پر تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کا اجلاس اسی مقام پر منعقد ہوگا جہاں وزیرِ اعظم نے پروگرام میں شرکت کی تھی۔ سنگور کی سرزمین پر کھڑے ہو کر وزیرِ اعظم نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں سرمایہ کاری تب ہی ہو گی جب قانون و انتظام کی صورتحال بہتر ہوگی۔
ترنمول کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی اس دعوے کا جواب ریاست میں صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری سے متعلق اعداد و شمار پیش کر کے دے سکتی ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ سنگور میں اپنے اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے علاقے کے لیے کسی نئی صنعت یا سرمایہ کاری کا کوئی خاص اعلان نہیں کیا تھا، جس سے مبینہ طور پر کئی شرکاء مایوس ہوئے۔
اس پس منظر میں سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سنگور کے پلیٹ فارم سے صنعت اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم اعلانات کر سکتی ہیں۔ ریاستی اسمبلی انتخابات سال کے نصف اول میں متوقع ہیں، ایسے میں اس تاریخی مقام سے ان کے پیغام کی سیاسی اہمیت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔