قومی

گرفتاری کے 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی، سپریم کورٹ کی وضاحت

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔ عدالت کے مطابق 24 گھنٹوں کی مدت کا آغاز رسمی گرفتاری کے وقت سے نہیں بلکہ حقیقی طور پر پولیس کی تحویل میں لیے جانے کے وقت سے ہوگا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔ عدالت کے مطابق 24 گھنٹوں کی مدت کا آغاز رسمی گرفتاری کے وقت سے نہیں بلکہ حقیقی طور پر پولیس کی تحویل میں لیے جانے کے وقت سے ہوگا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی جرم میں ملوث ہونے کے شبہ میں جب کسی شخص کو پہلی مرتبہ پولیس حراست میں لیتی ہے، اسی وقت سے 24 گھنٹوں کی مدت شمار کی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ حراست میں لینے اور رسمی گرفتاری کے درمیان فرق کرنا آئین کے خلاف ہوگا۔

عدالت نے ہدایت دی کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی قانونی شرط پوری نہیں کی جاتی تو متعلقہ شخص کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے مجسٹریٹس کو بھی ہدایت دی کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ پولیس نے کسی ملزم کو پیش کرتے وقت مقررہ 24 گھنٹوں کی مدت کی پابندی کی ہے یا نہیں۔

عدالت کے اس موقف کو شہریوں کی شخصی آزادی اور غیر قانونی حراست کے خلاف آئینی تحفظات کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔