مشرقِ وسطیٰ کی جنگ: تلگو ریاستوں کے ایکوا اور پولٹری سکٹرس پر تباہی کے بادل، کروڑوں کا نقصان
مشرق وسطیٰ میں چھڑنے والی جنگ کی آگ اب تلگو ریاستوں کے کسانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ جہاں دنیا بھر میں لوگ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے خوفزدہ ہیں وہیں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے ایکوا اور پولٹری سیکٹرس پر ایک بڑی تباہی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
حیدرآباد: مشرق وسطیٰ میں چھڑنے والی جنگ کی آگ اب تلگو ریاستوں کے کسانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ جہاں دنیا بھر میں لوگ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے خوفزدہ ہیں وہیں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے ایکوا اور پولٹری سیکٹرس پر ایک بڑی تباہی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
بین الاقوامی سرحدوں پر جاری کشیدگی نے تلگو کسانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ ان کا روزگار اب سمندر کے بیچوں بیچ پھنس کر رہ گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ آندھرا پردیش کی جھینگوں کی صنعت اور تلنگانہ کے پولٹری کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
خلیجی ممالک اور یورپ کو برآمد کی جانے والی سمندری مصنوعات کی ترسیل اچانک رک گئی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق تقریباً 300 ملین ڈالر مالیت کے سی فوڈ کنٹینرس مختلف بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں جن میں 60 فیصد حصہ صرف آندھرا پردیش کا ہے۔ وشاکھاپٹنم اور ممبئی کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے جھینگوں اور مچھلیوں کے کنٹینرس بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں حملوں کے خوف سے آگے نہیں بڑھ پا رہے ہیں۔
ایک طرف برآمدات ٹھپ ہیں، تو دوسری طرف شپنگ کمپنیوں نے کرائے دوگنا کر دیئے ہیں۔ ہر کنٹینر پر 1500 سے 4000 ڈالر تک کا ایمرجنسی سرچارج وصول کیا جا رہا ہے جس سے ریفریجریٹڈ کنٹینرس کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
سی فوڈ ایکسپورٹرس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ابھی ہم امریکی ٹیرف کے اثرات سے سنبھل ہی رہے تھے کہ اس جنگ نے ہماری کمر توڑ دی ہے۔ کولڈ اسٹوریج مکمل بھر جانے کی وجہ سے مقامی تاجروں نے خریداری بند کر دی ہے جس کے نتیجہ میں دیہاتوں میں جھینگوں کی قیمتیں گرنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس جنگ کی تپش صرف سمندری مصنوعات تک محدود نہیں بلکہ پولٹری سکٹر بھی اس کی زد میں ہے۔ خلیجی ممالک کو برآمد کئے جانے والے انڈوں کی کھیپ رک گئی ہے۔
برآمدات بند ہونے سے مقامی مارکٹ میں انڈوں کا ذخیرہ بڑھ گیا ہے اور قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں جس سے مرغی پالنے والے کسانوں کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
اس کے علاوہ ہندوستان سے برآمد ہونے والے حلال گوشت کا بڑا حصہ خلیجی ممالک کو جاتا ہے لیکن اب انشورنس کی شرحوں میں اضافہ اور ممبئی بندرگاہ پر کنٹینرس کے رک جانے سے ہزاروں ٹن گوشت کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
جہاں عام آدمی پٹرول کی فکر میں ہے وہیں تلگو کسان اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اس کی محنت کی کمائی کہیں سمندر کی نذر نہ ہو جائے۔ان افراد نے کہا کہ اب وقت ہے کہ حکومت فوری مداخلت کر کے برآمد کنندگان اور کسانوں کی مدد کے لئے آگے آئے۔