تلنگانہ

کانگریس دور حکومت میں اقلیتیں نظر انداز، تلنگانہ جاگروتی کا الزام

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ کانگریس دور حکومت میں اقلیتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا، جبکہ سرکاری ملازمتوں اور سیاسی نمائندگی میں ان کی شرکت بتدریج کم کی گئی۔ یہ بیان انہوں نے ناگرکرنول میں پریس کانفرنس کے دوران دیا۔

ناگرکرنول: صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ کانگریس دور حکومت میں اقلیتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا، جبکہ سرکاری ملازمتوں اور سیاسی نمائندگی میں ان کی شرکت بتدریج کم کی گئی۔ یہ بیان انہوں نے ناگرکرنول میں پریس کانفرنس کے دوران دیا۔

متعلقہ خبریں
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی شاندار ستائش
نارائن پیٹ ضلع کو ختم کرنے کی افواہوں پر بی جے پی کا سخت ردعمل، ڈی کے ارونا کا انتباہ

کویتا نے بتایا کہ جیہ شنکر کے مطابق، جب وہ عثمانیہ یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے تو معاشرتی رسم و رواج کے تحت نصف سیڑھیوں پر نمستے اور نصف پر سلام کیا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اقلیتیں ہر سطح پر نظر انداز ہونے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں سے لے کر سیاست تک، اقلیتوں کی نمائندگی محدود کردی گئی اور وقف بورڈ اور حج کمیٹی کے علاوہ کسی بھی اہم محکمہ میں انہیں مناسب حیثیت نہیں دی گئی۔

صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کے سی آر کے دور حکومت میں کچھ حد تک بہتری آئی اور ایک مسلم کو نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے تک رسائی ملی، لیکن اقلیتوں سے متعلق بنیادی مسائل، پسماندگی اور سیاسی نمائندگی کے سوالات برقرار رہے۔ کویتا نے واضح کیا کہ 12 فیصد تحفظات کا مسئلہ آج تک حل نہیں ہو سکا اور اقلیتوں کو سیاست میں خاطر خواہ نمائندگی نہیں دی گئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ نہ کانگریس اور نہ ہی بی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ کا مکمل استعمال کیا، اور تلنگانہ جاگروتی اس حوالے سے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم میں مسلم اقلیت ونگ، کرسچن ونگ اور سکھ ونگ قائم کیے گئے ہیں تاکہ ہر طبقے کے مسائل کی یکسوئی ممکن بنائی جا سکے۔

کویتا نے خواتین سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے انتخابات میں جو وعدے کیے تھے، وہ آج تک پورے نہیں ہوئے، جن میں 2500 روپے ماہانہ امداد اور ایک تولہ سونا دینے کے وعدے شامل ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرنے کا بھی الزام عائد کیا، جس کی وجہ سے غریب اور پسماندہ طلبہ مشکلات کا شکار ہیں۔

صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ ان کی جدوجہد اقلیتوں، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جاری رہے گی اور حکومت کی کوتاہیوں کے خلاف عوامی سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔