پین–آدھار لنکنگ کی ڈیڈلائن مس ہو گئی؟ 2026 میں پین کارڈ بند ہو سکتا ہے، جانیں کیا کرنا ہوگا
انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ اگر 31 دسمبر 2025 تک پین کارڈ آدھار سے لنک نہیں کیا گیا تو یکم جنوری 2026 سے پین کارڈ غیر فعال (Inoperative) ہو جائے گا۔
انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ اگر 31 دسمبر 2025 تک پین کارڈ آدھار سے لنک نہیں کیا گیا تو یکم جنوری 2026 سے پین کارڈ غیر فعال (Inoperative) ہو جائے گا۔ اس صورت میں پین کارڈ کا استعمال انکم ٹیکس، بینکنگ اور دیگر مالی لین دین کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔
اگر پین کارڈ غیر فعال ہو جاتا ہے تو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنا ممکن نہیں ہوگا، ریفنڈ کِلیم نہیں کیا جا سکے گا اور بینک، میوچل فنڈ یا دیگر مالی اداروں میں کے وائی سی مکمل نہیں ہو پائے گی۔ اس کے علاوہ نیا بینک اکاؤنٹ یا سرمایہ کاری اکاؤنٹ کھولنے میں بھی دشواری پیش آ سکتی ہے، جبکہ بڑے مالی لین دین پر پابندی لگ سکتی ہے۔
غیر فعال پین کی صورت میں ٹیکس چھوٹ منسوخ ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ TDS اور TCS زیادہ شرح پر کٹ سکتے ہیں، جس سے تنخواہ، سود اور دیگر آمدنی پر اضافی ٹیکس کا بوجھ پڑ سکتا ہے۔ یہ سب مسائل ٹیکس دہندگان کے لیے براہِ راست مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاہم، جن افراد سے پین–آدھار لنکنگ کی ڈیڈلائن مس ہو گئی ہے، انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ₹1000 کی لیٹ فیس ادا کرکے آن لائن پورٹل کے ذریعے پین کو آدھار سے لنک کیا جا سکتا ہے۔ لنکنگ مکمل ہوتے ہی پین کارڈ دوبارہ فعال ہو جاتا ہے اور تمام سہولیات معمول کے مطابق بحال ہو جاتی ہیں۔ یہ سہولت ڈیڈلائن کے بعد بھی دستیاب رہے گی۔
کچھ زمروں کو اس پابندی سے استثنا حاصل ہے، جن میں نان ریزیڈنٹ انڈینز (NRIs)، مقررہ عمر سے زائد سینئر سٹیزنز اور حکومت کی جانب سے خصوصی طور پر مستثنیٰ افراد شامل ہیں۔ باقی تمام پین ہولڈرز کے لیے آدھار سے لنکنگ ضروری ہے۔
پین–آدھار لنکنگ کا مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام، ڈوپلیکیٹ پین کارڈز کا خاتمہ اور مالی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ ٹیکس دہندگان کے لیے یہ عمل بینکنگ، سرمایہ کاری اور ٹیکس خدمات کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ٹیکس دہندگان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر اب تک پین آدھار سے لنک نہیں کیا گیا تو فوراً یہ عمل مکمل کریں، تاکہ 2026 سے پین کارڈ غیر فعال ہونے جیسی پریشانیوں سے بچا جا سکے۔ معمولی تاخیر بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔