رمضان سے قبل شاہی مسجد باغ عام میں انتظامات کا جائزہ، سرکاری حکام کے ساتھ ایم ایل اے ماجد حسین کی خصوصی میٹنگ
میٹنگ میں رمضان المبارک کے دوران مصلیوں کو درپیش سہولتوں، انتظامی تیاریوں اور بنیادی ڈھانچے کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نامپلی: اے آئی ایم آئی ایم کے نامپلی حلقہ کے رکنِ اسمبلی ماجد حسین نے رمضان المبارک کی آمد کے پیشِ نظر باغ عام کی شاہی مسجد میں ایک اہم ریویو میٹنگ منعقد کی۔ اس میٹنگ میں کارپوریٹر محمد عارف، جی ایچ ایم سی، واٹر بورڈ کے عہدیداران، اقلیتی بہبود محکمہ کے ذمہ داران اور شاہی مسجد باغ عام کے امام و خطیب مولانا احسن الحمومی شریک تھے۔
میٹنگ میں رمضان المبارک کے دوران مصلیوں کو درپیش سہولتوں، انتظامی تیاریوں اور بنیادی ڈھانچے کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے ماجد حسین نے بتایا کہ یہ تمام اقدامات حیدرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ اور صدر مجلس اتحاد المسلمین اسدالدین اویسی کی ہدایات کے مطابق کیے جا رہے ہیں اور تمام متعلقہ محکمے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاہی مسجد باغ عام کے اطراف تقریباً 20 لاکھ روپے کی لاگت سے شیڈ کی تنصیب کا کام جی ایچ ایم سی کی جانب سے منظوری کے بعد جلد مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مسجد اور اطراف میں ڈیڑھ سو سے زائد عارضی، آرائشی اور روشنی کے انتظامات کیے جائیں گے۔
ایم ایل اے ماجد حسین نے مزید بتایا کہ دیگر مینٹیننس کے کام تقریباً 5 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور ہو چکے ہیں اور انہیں بھی تیزی سے شروع کیا جائے گا۔ الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے رمضان کے دوران اضافی اور موبائل ٹرانسفارمرس فراہم کیے جائیں گے تاکہ بجلی کی زیادہ کھپت کی صورت میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
واٹر بورڈ کے حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ رمضان کے تمام 30 دنوں کے لیے روزانہ ایک ہزار سے ڈھائی ہزار مصلیوں کے لیے پانی کا مناسب انتظام یقینی بنایا جائے۔ ایم ایل اے نے کہا کہ یہ سہولت پہلی مرتبہ شاہی مسجد باغ عام میں فراہم کی جا رہی ہے۔
ماجد حسین نے ایک بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شاہی مسجد باغ عام کا ایک دیرینہ مسئلہ، جس کے باعث جمعہ اور رمضان میں مصلیوں کو باہر دھوپ میں نماز ادا کرنا پڑتی تھی، اب حل کر دیا گیا ہے۔ مسجد کے پہلو میں واقع مولانا آزاد اورینٹل ریسرچ سنٹر کی عمارت کو مکمل طور پر خالی کروا کر مسجد کے حوالے کر دیا گیا ہے، جسے اسی رمضان سے مصلیوں کے استعمال میں لایا جائے گا۔ اس اقدام سے جگہ کی تنگی کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور بڑی تعداد میں آنے والے مصلیوں کو سہولت ملے گی۔
ایم ایل اے نے کہا کہ یہ ایک طویل عرصے سے زیر التوا مسئلہ تھا، جسے حکومت اور متعلقہ محکموں کی مسلسل نمائندگی اور تعاون سے حل کیا گیا۔ انہوں نے اقلیتی بہبود محکمہ سے بھی اپیل کی کہ نئی جگہ کو بہتر انداز میں مینٹین کرتے ہوئے مصلیوں کے لیے مکمل طور پر موزوں بنایا جائے۔
آخر میں ماجد حسین نے یقین دہانی کرائی کہ رمضان سے قبل تمام انتظامات مکمل کر لیے جائیں گے اور ان کی نگرانی براہِ راست کی جائے گی، تاکہ آنے والے مصلیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے اور وہ اطمینان کے ساتھ اپنی عبادات انجام دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام منظوریوں کا عمل پہلے ہی مکمل کر لیا گیا ہے، اس لیے آئندہ کسی قسم کی رکاوٹ کا کوئی امکان نہیں ہے۔