نامپلی آتشزدگی سانحہ: پانچ افراد ہلاک، تلنگانہ حکومت کا فی خاندان 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا کا اعلان
نامپلی میں پیش آئے افسوسناک آتشزدگی کے حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد تلنگانہ حکومت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔
نامپلی میں پیش آئے افسوسناک آتشزدگی کے حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد تلنگانہ حکومت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے مہلوکین کے اہلِ خانہ کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ المناک حادثہ ہفتہ کے روز نامپلی میں واقع ایک فرنیچر کی دکان میں پیش آیا، جہاں اچانک شدید آگ بھڑک اٹھی۔ آگ لگنے کے بعد 22 گھنٹے تک ریسکیو آپریشن جاری رہا اور اتوار کی صبح مہلوکین کی لاشیں نکالی جا سکیں۔
وزیر نے ضلع انتظامیہ کو فوری راحت رسانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کلکٹر ہری چندنا کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی اور یقین دہانی کرائی کہ ایکس گریشیا کی رقم بلا تاخیر جاری کی جائے گی۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثے کی بنیادی وجہ دکان کے مالک کی لاپرواہی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ فائر سیفٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے نتیجے میں آگ نے خطرناک شکل اختیار کی۔ پولیس نے اس معاملے میں ملزم کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ذمہ داری طے کرنے کے لیے مزید جانچ جاری ہے۔
وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ریاست بھر میں فائر سیفٹی قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
نامپلی کا یہ حادثہ ایک بار پھر حیدرآباد کی تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کو بے نقاب کرتا ہے۔ پانچ افراد کا کئی گھنٹوں تک عمارت میں پھنسے رہنے کے بعد جاں بحق ہونا انتظامی لاپرواہی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
شہر میں سوگ کی فضا کے درمیان حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر سطح پر ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ اگر آپ چاہیں تو میں اسی خبر کو مختصر سوشل میڈیا ورژن یا ہیڈلائن فوکسڈ اسٹوری میں بھی ڈھال سکتا ہوں۔