حیدرآباد

نامپلی کی تاریخی نُمائش اتوار کو ختم ہوجائے گی، تاریخ میں توسیع کا کوئی امکان نہیں

ل انڈیا انڈسٹریل ایگزیبیشن سوسائٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نمائش کو بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اتوار کی رات کے بعد عوام کے لیے دروازے بند کر دیے جائیں گے

حیدرآباد کے نامپلی میں منعقد ہونے والی شہر کی تاریخی اور مشہور نُمائش (آل انڈیا انڈسٹریل ایگزیبیشن) اتوار کے روز اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ منتظمین نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ اس سال نمائش میں کسی بھی قسم کی توسیع نہیں کی جائے گی اور اتوار ہی عوام کے لیے آخری دن ہوگا۔

متعلقہ خبریں
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ہفتہ واری درس قرآن
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
ماہ رمضان المبارک کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے!، گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کواَن انسٹال کریں: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی
نمائش کلب میں زندہ دلان حیدرآباد کی محفلِ لطیفہ گوئی، “خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں” کا پیغام عام

یہ سالانہ نمائش یکم جنوری کو شروع ہوئی تھی اور 46 دن مکمل ہونے کے بعد 15 فروری کو باضابطہ طور پر بند کر دی جائے گی۔ آل انڈیا انڈسٹریل ایگزیبیشن سوسائٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نمائش کو بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اتوار کی رات کے بعد عوام کے لیے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

نمائش کے آغاز سے لے کر اب تک شہر حیدرآباد اور اطراف کے اضلاع سے چند لاکھ افراد اس تاریخی میلے کا دورہ کر چکے ہیں۔ خاص طور پر ہفتہ اور اتوار کے دنوں میں نمائش گاہ میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا، جہاں خاندانوں، بچوں اور نوجوانوں نے اسے سال کی سب سے بڑی اور لازمی تفریحی سرگرمی قرار دیا۔

اس سال نمائش میں ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً 1,050 تاجر شریک ہوئے، جو اپنی متنوع مصنوعات کی نمائش اور فروخت میں مصروف رہے۔ نمائش میں ریڈی میڈ ملبوسات، دستکاریاں، جوتے، نقلی زیورات، کاسمیٹکس، خشک میوہ جات، گھریلو آرائش کا سامان، فرنیچر، الیکٹرانک اشیاء اور دیگر کئی اقسام کی مصنوعات عوام کی توجہ کا مرکز رہیں۔

منتظمین کے مطابق پیر کے روز نمائش گاہ کو مکمل طور پر عوام کے لیے بند کر دیا جائے گا، جبکہ تاجروں کو ایک دن دیا جائے گا تاکہ وہ اپنا سامان سمیٹ کر واپسی کی تیاری کر سکیں۔ اس کے بعد نمائش گاہ کو خالی کر کے آئندہ انتظامی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔

شہر کے عوام کے لیے نُمائش نہ صرف خریداری بلکہ تہذیبی اور تفریحی لحاظ سے بھی ایک اہم روایت بن چکی ہے، جس کے اختتام پر شہریوں میں ایک خاص اداسی بھی دیکھی جا رہی ہے۔