شمالی بھارت

بہار اسمبلی انتخاب میں این ڈی اے کی تاریخی برتری، مجلس اتحادالمسلمین بھی 6 نشستوں پر آگے،کیوں نتیش کو کوئی ہٹا نہ سکا؟

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ایک بار پھر اس حقیقت کو مضبوط کرتے ہیں کہ نتیش کمار کا سیاسی قد اور ان کی گرفت اب بھی ریاست میں ناقابلِ تسخیر ہے۔ محض دو فیصد کے قریب آبادی رکھنے والی اپنی برادری کے باوجود نتیش گزشتہ دو دہائیوں سے بہار کی سیاست کے مرکز میں ہیں۔

پٹنہ: بہار اسمبلی انتخاب 2025 کی گنتی جمعہ 14 نومبر صبح 8 بجے شروع ہوئی، اور ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے 190 سے زائد نشستوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔ دوسری طرف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بیسی، جوکی ہاٹ، ٹھاکرگنج، کوچادھامن اور امور میں مضبوط برتری حاصل کر رہی ہے۔

اسی دوران مہاگٹھ بندھن کے وزیر اعلیٰ امیدوار اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو اپنے روایتی گڑھ راغوپور میں بی جے پی کے ستیش کمار سے پیچھے چل رہے ہیں، حالانکہ وہ 2015 اور 2020 میں یہی نشست بڑی برتری سے جیت چکے تھے۔

راغوپور آر جے ڈی کا تاریخی قلعہ رہا ہے جہاں ماضی میں لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔ تیجسوی یادو 2015 سے اس حلقے کے نمائندہ ہیں، مگر اس بار بی جے پی اور جَن سُراج کے مضبوط مقابلے نے سیاسی ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ گنتی مراکز پر دو سطحی سیکورٹی نافذ ہے، سی اے پی ایف اور بہار پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ 24 گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی بھی جاری ہے۔ انتخاب میں 67.13 فیصد کی تاریخی پولنگ ریکارڈ ہوئی اور 7.45 کروڑ ووٹرز نے 2,616 امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ کیا۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ایک بار پھر اس حقیقت کو مضبوط کرتے ہیں کہ نتیش کمار کا سیاسی قد اور ان کی گرفت اب بھی ریاست میں ناقابلِ تسخیر ہے۔ محض دو فیصد کے قریب آبادی رکھنے والی اپنی برادری کے باوجود نتیش گزشتہ دو دہائیوں سے بہار کی سیاست کے مرکز میں ہیں۔ این ڈی اے کی اس بڑی کامیابی میں جہاں بی جے پی کے جارحانہ انتخابی مہم کا اثر دکھائی دیتا ہے، وہیں جے ڈی یو کی غیر معمولی واپسی نے بھی سب کو حیران کر دیا ہے—خصوصاً اس لیے کہ 2020 میں جے ڈی یو کا کارکردگی توقع کے مطابق نہیں رہی تھی۔

نتیش کمار کی قیادت میں ’’ڈبل انجن حکومت‘‘ نے بہار میں سیاسی استحکام کا جو نقشہ کھینچا ہے، اسے عوام کی واضح حمایت ملی ہے۔ صحت پر اٹھنے والے سوالات کے باوجود نتیش کی سیاسی موجودگی اب بھی مضبوط ہے، اور وہ ممکنہ طور پر دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھا سکتے ہیں—جو ایک تاریخی ریکارڈ ہو گا۔ سماج وادی تحریک سے ابھرنے والے رہنماؤں میں آج صرف نتیش ہی اپنی مقبولیت برقرار رکھ سکے ہیں جبکہ دیگر کئی قد آور لیڈر غلط فیصلوں اور خاندانی سیاست کے باعث پیچھے رہ گئے۔

بہار کے نتائج صاف بتا رہے ہیں کہ ریاست کی موجودہ سیاست میں نتیش کمار کی جگہ کوئی اور بھر نہیں سکتا، جبکہ مجلس کی بڑھتی ہوئی موجودگی انتخابی نقشے میں ایک نیا زاویہ جوڑ رہی ہے۔