حیدرآباد

جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں نوین یادو کی شاندار کامیابی، کانگریس کا جشن۔ بی آر ایس اور بی جے پی دفاتر میں خاموشی

دوسری جانب بی آر ایس اور بی جے پی دفاتر میں خاموشی چھائی رہی۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوبلی ہلز کے ووٹرز نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

حیدرآباد: جوبلی ہلز ضمنی انتخاب کے نتائج کا انتظار ختم ہو گیا ہے، اور آخری یعنی دسویں راؤنڈ کی گنتی میں کانگریس نے فیصلہ کن برتری کے ساتھ میدان مار لیا۔ کانگریس امیدوار نوین یادو نے مجموعی طور پر اٹھانوے ہزار، نو سو اٹھاسی ووٹ حاصل کرتے ہوئے شاندار کامیابی اپنے نام کی۔ دوسری جانب بی آر ایس امیدوار ماگنٹی سنیتھا گوپی ناتھ نے چوہتر ہزار، دو سو انسٹھ ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

متعلقہ خبریں
رکن اسمبلی ماجد حسین اور فیروز خان کے خلاف کارروائی کا انتباہ
اردو اکیڈمی جدہ کے وفد کی قونصل جنرل ہند سے ملاقات، سرگرمیوں اور آئندہ منصوبوں پر تبادلۂ خیال
طب یونانی انسانی صحت اور معاشی استحکام کا ضامن، حکیم غریبوں کے مسیحا قرار
حقوق العباد کی ادائیگی—صالح اور خوبصورت معاشرے کی بنیاد
وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے وزیراعلٰی اور چیف جسٹس سے ٹریبونل کو مضبوط کرنے کی گزارش

نوین یادو نے چوبیس ہزار، سات سو انتیس ووٹوں کی بھاری اکثریت سے یہ نشست اپنے نام کی، جو کانگریس کے لیے ایک بڑی سیاسی جیت سمجھی جا رہی ہے۔ بی جے پی امیدوار دیپک ریڈی لنکالہ سترہ ہزار، اکسٹھ ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

نتائج سامنے آنے کے بعد نوین یادو نے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیت کا اصل کریڈٹ عوام کے اعتماد کو جاتا ہے، اور یہ واضح فتح اس بات کی علامت ہے کہ لوگ ترقی، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے حلقے کے مسائل کے حل کے لیے پوری دیانتداری کے ساتھ کام کریں گے۔

ادھر گاندھی بھون اور یوسف گوڑہ میں کانگریس کارکنوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔ ڈھول تاشوں کی گونج، آتش بازی، مٹھائیوں کی تقسیم اور نعرے بازی سے ماحول جشن میں تبدیل ہو گیا۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ریاستی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں اور نوین یادو کے زمینی رابطوں کا نتیجہ ہے۔

دوسری جانب بی آر ایس اور بی جے پی دفاتر میں خاموشی چھائی رہی۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوبلی ہلز کے ووٹرز نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پورے انتخابی عمل کے دوران ووٹنگ اور گنتی پُرامن رہی اور تمام راؤنڈز کی گنتی مقررہ وقت میں مکمل کر لی گئی۔