حیدرآباد

تلنگانہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ میں نئی انقلابی تبدیلی۔ریاست قومی وہیکل نیٹ ورک میں شامل

خاص طور پر ایک ریاست سے دوسری ریاست میں گاڑیاں خریدنے یا لے جانے والوں کے لئے یہ بڑی راحت کی خبر ہے

حیدرآباد  : تلنگانہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ میں ایک انقلابی تبدیلی آنے والی ہے۔ اب تک اپنے ذاتی آئی ٹی سسٹم کے ذریعہ خدمات فراہم کرنے والا یہ محکمہ، اب قومی نیٹ ورک کا حصہ بننے جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
فینسی نمبرات کا ہراج، آر ٹی اے خیریت آباد کو ایک ہی دن میں لاکھوں کی آمدنی
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان

ریونت ریڈی حکومت نے پہلے ہی ڈرائیونگ لائسنس کے لئے سارتھی پورٹل متعارف کروا دیا ہے اور اب گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لئے واہن پورٹل کو اس سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے ون نیشن۔ ون رجسٹری کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا جس سے گاڑی مالکین کی دہائیوں پرانی مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

خاص طور پر ایک ریاست سے دوسری ریاست میں گاڑیاں خریدنے یا لے جانے والوں کے لئے یہ بڑی راحت کی خبر ہے۔ ماضی میں دوسری ریاست سے گاڑی لانے یا یہاں کی گاڑی باہر لے جانے کے لئے این او سی کے حصول کی خاطر آر ٹی اے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے لیکن اب تمام ڈیٹا مرکزی سرور پر ہونے کی وجہ سے یہ عمل سکنڈوں میں آن لائن مکمل ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ سکنڈ ہینڈ گاڑیاں خریدنے والوں کے لئے بھی یہ نظام انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔ اب خریدار گاڑی کے انجن اور چیسس نمبر کے ذریعہ پورٹل پر یہ باآسانی چیک کر سکیں گے کہ گاڑی پر کتنے چالان ہیں یا اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ تو نہیں ہے۔ اس شفافیت سے دھوکہ دہی کا سدباب ہوگا۔

عوام اب آر ٹی اے کی زیادہ تر خدمات جیسے ڈپلیکیٹ آر سی، ایڈریس کی تبدیلی وغیرہ گھر بیٹھے آن لائن حاصل کر سکیں گے جس سے دفاتر میں قطاروں اور ایجنٹوں کے چکروں سے نجات ملے گی۔ اب ساتھ میں دستاویزات ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ ڈیجی لاکر یا ایم پریواہن ایپ میں موجود ڈیجیٹل آر سی ہر جگہ قابل قبول ہوگی۔ یہ پورٹل گاڑیوں کی چوری روکنے پولیس کے لیے ایک اہم ہتھیار ثابت ہوگا کیونکہ تلنگانہ سے چوری کی گئی گاڑی کو دوسری ریاست میں فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہی قومی نیٹ ورک کے ذریعہ اس کی فوری شناخت ہو جائے گی۔