قومی
ٹرینڈنگ

ایل پی جی سلنڈر کے نئے قواعد: ایک ماہ میں کتنے سلنڈر بک کروا سکتے ہیں؟ شادی یا فنکشن میں کتنے ملیں گے؟ جانیے مکمل تفصیل

حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی گیس سپلائی پر بھی پڑنے لگا ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور آئل کمپنیاں ایسے اقدامات کر رہی ہیں تاکہ ہر گھر تک گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

نئی دہلی: ملک میں ایل پی جی (LPG) گیس کی سپلائی کو منظم رکھنے کے لیے حکومت اور تیل کمپنیوں نے کچھ نئے قواعد نافذ کیے ہیں۔ اگر آپ بھی گھریلو گیس سلنڈر استعمال کرتے ہیں تو ان تبدیلیوں کو جاننا آپ کے لیے بے حد ضروری ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی گیس سپلائی پر بھی پڑنے لگا ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور آئل کمپنیاں ایسے اقدامات کر رہی ہیں تاکہ ہر گھر تک گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

ایک ماہ میں کتنے سلنڈر بک ہوں گے؟

بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (BPCL) کے نئے اصولوں کے مطابق، ایک عام صارف ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ 2 گھریلو ایل پی جی سلنڈر ہی بک کر سکتا ہے۔ اس سے زیادہ سلنڈر بک کرنے پر سسٹم درخواست کو روک سکتا ہے یا اضافی جانچ کی جا سکتی ہے۔

سال بھر میں سلنڈروں کی حد کیا ہے؟

حکومت کی جانب سے ہر مالی سال (یکم اپریل سے 31 مارچ) کے دوران 12 سبسڈی والے سلنڈر فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر 3 غیر سبسڈی والے سلنڈر بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح ایک سال میں کل 15 سلنڈر تک بک کروانے کی اجازت ہے۔

اب بُکنگ کے درمیان زیادہ وقفہ

پہلے جہاں ایک سلنڈر کے بعد دوسرا سلنڈر 21 دن میں بک کیا جا سکتا تھا، اب یہ مدت بڑھا کر 25 دن کر دی گئی ہے۔ یعنی اب صارفین کو اگلا سلنڈر بک کرنے کے لیے زیادہ انتظار کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی KYC اپڈیٹ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، ورنہ بُکنگ میں دشواری پیش آ سکتی ہے یا درخواست مسترد بھی ہو سکتی ہے۔

اضافی سلنڈر کے لیے نیا طریقہ کار

بی پی سی ایل نے اضافی سلنڈر حاصل کرنے کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے۔ اگر کوئی صارف اپنے 12 سلنڈروں کا سالانہ کوٹہ مکمل کر چکا ہے اور مزید سلنڈر لینا چاہتا ہے تو اسے ‘Hello BPCL’ ایپ کے ذریعے درخواست دینا ہوگی۔ اس دوران صارف سے چند سوالات کیے جائیں گے، جیسے:

گھر میں افراد کی تعداد کتنی ہے؟
کیا گھر میں کوئی شادی، فنکشن یا تقریب ہے؟
مہمانوں کی تعداد کتنی ہوگی؟

ان معلومات کی بنیاد پر ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ اضافی سلنڈر فراہم کیا جائے یا نہیں۔

یہ تبدیلیاں کیوں کی جا رہی ہیں؟

واضح رہے کہ بھارت اپنی گیس کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ وہاں جاری کشیدگی کے باعث سپلائی متاثر ہو رہی ہے، اسی لیے حکومت نے یہ اقدامات کیے ہیں تاکہ ہر صارف تک گیس کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

لہٰذا صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان نئے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی گیس بُکنگ کی منصوبہ بندی کریں۔