راجندر نگر میں مبینہ غیر قانونی کانکنی پر NHRC کا سخت موقف، وزیر پونگولیٹی کی کمپنی رگھوا کنسٹرکشنز کے خلاف کارروائی کی ہدایت
NHRC نے سوال اٹھایا کہ مبینہ طور پر ضروری اجازت ناموں کے بغیر کھدائی اور کانکنی کی سرگرمیاں کیسے انجام دی گئیں۔ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا عام شہریوں کے لیے ایک قانون اور بااثر افراد یا وزراء سے وابستہ کمپنیوں کے لیے دوسرا قانون ہے؟
حیدرآباد: قومی انسانی حقوق کمیشن (NHRC) نے راجندر نگر کے مانسا ہلز علاقے میں مبینہ غیر قانونی کانکنی کے معاملے پر تلنگانہ کے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی سے منسلک کمپنی رگھوا کنسٹرکشنز کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔
NHRC نے سوال اٹھایا کہ مبینہ طور پر ضروری اجازت ناموں کے بغیر کھدائی اور کانکنی کی سرگرمیاں کیسے انجام دی گئیں۔ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا عام شہریوں کے لیے ایک قانون اور بااثر افراد یا وزراء سے وابستہ کمپنیوں کے لیے دوسرا قانون ہے؟
کمیشن نے مبینہ غیر قانونی کانکنی کے معاملے میں مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ (MMDR Act) کے تحت کارروائی کرنے کی سفارش مرکزی حکومت سے کی ہے۔
NHRC نے اس معاملے میں محکمہ محصولات، محکمہ کانکنی و ارضیات، تلنگانہ آلودگی کنٹرول بورڈ اور حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HMDA) کی مبینہ خاموشی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
کمیشن نے مرکزی کوئلہ اور کانکنی کی وزارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاملے میں مناسب کارروائی کرے اور 8 ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرے۔
یہ معاملہ راجندر نگر کے قریب مانسا ہلز میں مبینہ کانکنی اور کھدائی کی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ اس معاملے پر سیاسی سطح پر بھی الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ رگھوا کنسٹرکشنز کی جانب سے ماضی میں غیر قانونی کانکنی یا کرشر چلانے کے الزامات کی تردید کی جا چکی ہے۔
کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ کوتھواگوڈا میں اس نے نہ تو کوئی کرشر قائم کیا اور نہ ہی اسے چلایا، جبکہ کرشر سے متعلق مواد کسی دوسری کمپنی سے حاصل کیا جا رہا تھا۔
NHRC کی تازہ کارروائی کے بعد مانسا ہلز میں مبینہ کانکنی، ماحولیاتی اجازت ناموں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے کردار پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوگئی ہے