شانتہ شری رام کنسٹرکشنز اراضی تنازعہ میں سپریم کورٹ سے تلنگانہ حکومت کو جھٹکا
شانتہ شری رام کنسٹرکشنز کے ساتھ جاری اراضی تنازعہ کے معاملے میں تلنگانہ حکومت اور حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ ایسیٹ پروٹیکشن ایجنسی (HYDRA) کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے کانگریس حکومت کی جانب سے دائر درخواست کو خارج کردیا۔
حیدرآباد: شانتہ شری رام کنسٹرکشنز کے ساتھ جاری اراضی تنازعہ کے معاملے میں تلنگانہ حکومت اور حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ ایسیٹ پروٹیکشن ایجنسی (HYDRA) کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے کانگریس حکومت کی جانب سے دائر درخواست کو خارج کردیا۔
یہ تنازعہ ملکاجگیری کے حدود میں لوتھ کنٹہ کے سروے نمبر 1 اور 2 میں موجود تقریباً 40 ایکڑ اراضی سے متعلق ہے۔ ریاستی حکومت کا دعویٰ تھا کہ سکندرآباد کنٹونمنٹ کے حدود میں واقع یہ اراضی تلنگانہ حکومت کی ملکیت ہے۔
تاہم تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پہلے فیصلہ سناتے ہوئے شانتہ شری رام کنسٹرکشنز کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور کہا تھا کہ متنازعہ اراضی تعمیراتی کمپنی کی ملکیت ہے۔
ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے حکومت کی درخواست خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
یہ معاملہ HYDRA کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی تنازعہ کے سلسلے میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس سے قبل HYDRA کے کمشنر اے وی رنگناتھ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد متنازعہ 40 ایکڑ اراضی پر ریاستی حکومت کے دعوے کے حوالے سے صورتحال مزید واضح ہوگئی ہے۔ عدالت کے حکم کے قانونی اثرات اور اراضی سے متعلق آئندہ اقدامات پر فریقین کی جانب سے غور کیا جائے گا۔
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب HYDRA حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں سرکاری و عوامی املاک کے تحفظ اور مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس اراضی سے متعلق آئندہ قانونی اور انتظامی کارروائیوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔