تلنگانہ

جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد سنگارینی انٹرن طالبہ کی خودکشی، دو افراد کے خلاف مقدمہ

اطلاعات کے مطابق طالبہ نے گوادرکھانی میں ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد ECET کے ذریعے عثمانیہ یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی نشست حاصل کی تھی۔ رواں سال اس نے سنگارینی ادارے میں انٹرن شپ شروع کی تھی۔

گوادرکھانی: پداپلی ضلع کے گوادرکھانی میں 21 سالہ انجینئرنگ طالبہ نے مبینہ جنسی ہراسانی سے پریشان ہوکر خودکشی کرلی۔ طالبہ کی جانب سے مبینہ طور پر تحریر کردہ خودکشی نوٹ میں ایک افسر پر عصمت دری کا الزام عائد کیے جانے کے بعد معاملہ سامنے آیا۔

اطلاعات کے مطابق طالبہ نے گوادرکھانی میں ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد ECET کے ذریعے عثمانیہ یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی نشست حاصل کی تھی۔ رواں سال اس نے سنگارینی ادارے میں انٹرن شپ شروع کی تھی۔

اسی دوران سنگارینی میں اوورمین (سپروائزر) کے طور پر کام کرنے والے بومّاکنٹی روی کمار نے مبینہ طور پر طالبہ سے تعارف حاصل کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ روی کمار نے طالبہ سے کہا تھا کہ اس نے بھی اسی کالج سے ڈپلومہ کیا ہے۔

خاندان کی شکایت کے مطابق، اس دوران روی کمار نے مبینہ طور پر طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔ طالبہ نے مبینہ طور پر سنگارینی انتظامیہ سے بھی شکایت کی، تاہم اس کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ شکایت پر مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔

بعد میں طالبہ نے سنگارینی کی انٹرن شپ چھوڑ دی اور گوادرکھانی میں ایک کمپیوٹر سنٹر میں کام کرنے لگی۔ اہل خانہ کے مطابق، اس کے باوجود پولی ٹیکنک کالج کے استاد نوین اور روی کمار کی جانب سے مبینہ ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا۔

بتایا گیا ہے کہ طالبہ نے کیڑے مار دوا استعمال کرلی، جس کے بعد اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم، وہ دورانِ علاج 14 ستمبر کو دم توڑ گئی۔

طالبہ کے والد کی شکایت پر پولیس نے روی کمار اور نوین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان مبینہ طور پر فرار ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔

طالبہ کے اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ اس کے مبینہ خودکشی نوٹ میں درج الزامات کی بنیاد پر مکمل تحقیقات کی جائیں۔ نوٹ میں مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے سنگارینی انتظامیہ کو روی کمار کے خلاف عصمت دری کی شکایت کی تھی، لیکن اس کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

واقعہ کے بعد دلت تنظیموں کی قیادت میں اہل خانہ اور حامیوں نے لاش کے ساتھ کارپوریشن دفتر کے سامنے سڑک پر دھرنا دیا۔ مظاہرین نے طالبہ کی موت کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور متعلقہ سنگارینی عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ خودکشی نوٹ میں عائد الزامات سمیت تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔