شمال مشرق

گستاخ تسلیمہ نسرین 19 سال بعد کولکتہ پہنچیں

تسلیمہ نسرین پر بھارت میں پابندی عائد نہیں ہے، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے انہیں کولکاتا میں ادبی پروگراموں میں شرکت کے لیے اجازت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

کولکاتا: بنگلہ دیشی مصنفہ اور سماجی کارکن تسلیمہ نسرین تقریباً 19 سال بعد ایک مرتبہ پھر کولکاتا پہنچ گئی ہیں۔ وہ جمعہ کو سخت سیکیورٹی کے درمیان نیتاجی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچیں۔

تسلیمہ نسرین کے مطابق کولکاتا ہمیشہ ان کے لیے دوسرا گھر رہا ہے۔ وہ اس دورے کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گی۔

تسلیمہ نسرین 1962 میں بنگلہ دیش کے میمن سنگھ میں پیدا ہوئیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ فزیشن رہ چکی ہیں، جبکہ ادب کے میدان میں ناول، مضامین اور یادداشتیں لکھنے کے لیے عالمی سطح پر جانی جاتی ہیں۔ خواتین کے حقوق، سیکولرازم، آزادیٔ اظہار اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ان کی تحریریں خاصی معروف ہیں۔

ان کی 1993 میں شائع ہونے والی مشہور کتاب ’’لَجّا‘‘ نے انہیں بین الاقوامی شناخت دلائی۔ اس ناول میں بابری مسجد انہدام کے بعد بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہونے والے تشدد کا ذکر کیا گیا تھا۔ کتاب پر بنگلہ دیش میں پابندی عائد کی گئی اور انہیں مذہبی گروہوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس کے بعد تسلیمہ نسرین نے 1994 میں بنگلہ دیش چھوڑ دیا اور مختلف ممالک میں قیام کیا۔ 2004 میں انہیں بھارت میں عارضی طور پر رہنے کی اجازت ملی، جس کے بعد وہ کولکاتا آئیں اور کئی برس تک یہاں رہیں۔

تاہم نومبر 2007 میں کولکاتا میں ان کی تحریروں کے خلاف شدید احتجاج اور پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ اس وقت کی لیفٹ فرنٹ حکومت نے انہیں کولکاتا سے منتقل کر دیا تھا۔ بعد میں وہ جے پور اور پھر یورپ چلی گئیں۔

تسلیمہ نسرین پر بھارت میں پابندی عائد نہیں ہے، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے انہیں کولکاتا میں ادبی پروگراموں میں شرکت کے لیے اجازت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

اب تقریباً 19 سال بعد ان کی کولکاتا واپسی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بی جے پی رکن اسمبلی سورَو سِکدار کے مطابق مرکزی حکومت نے تسلیمہ نسرین کو بھارت میں رہنے کی اجازت دی ہے۔

معلون تسلیمہ نسرین کو 1992 اور 2000 میں معروف آنند پرسکار سے بھی نوازا جا چکا ہے۔