وقف میں صرف مسلمان ہی رہیں گے:امیت شاہ (ویڈیو)
وزیر داخلہ امت شاہ نے چہارشنبہ کے روز لوک سبھا میں واضح کیا کہ وقف بل کا تعلق مسلمانوں سے ہے اور وقف میں کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کو شامل کرنے کی بات مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔

نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ نے چہارشنبہ کے روز لوک سبھا میں واضح کیا کہ وقف بل کا تعلق مسلمانوں سے ہے اور وقف میں کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کو شامل کرنے کی بات مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بل صرف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لایا گیا ہے کہ وقف املاک کا نظم شفاف اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہو اور مسلم کمیونٹی کے غریب، خواتین اور بچے اس سے مستفید ہو سکیں۔وزیر داخلہ نے وقف (ترمیمی) بل 2025 پر بحث میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ چیریٹی کمشنر ایکٹ کے تحت کسی بھی مذہب کے فرد کو خیراتی اداروں کو ریگولیٹ کرنے اور ان کا معائنہ کرنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے، اسی طرح وقف کی نگرانی کے لیے بورڈ میں کلکٹر اور ممبران کو شامل کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے، جسے کسی مذہب میں مداخلت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا، "وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مودی حکومت کے دور میں ملک میں کسی بھی مذہب کے شہری کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا”۔کانگریس اور پوری اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ“مودی حکومت کے بارے میں کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مسلمانوں کو ڈرا کر اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں ذات پات اور فرقہ پرستی کی سیاست کو دفن کر دیا تھا اور عوام نے انہیں مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا، "اگر 2013 میں ترقی پسند اتحاد کی حکومت کی طرف سے وقف ایکٹ میں لائی جانے والی ترمیم میں سنگین خامیاں نہ ہوتیں تو اس بل کو لانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ اس ترمیم کی وجہ سے دہلی کے لوٹین زون کی 123 انتہائی اہم جائیدادوں کو وقف میں منتقل کر دیا گیا تھا۔” انہوں نے کہا کہ 2013 میں پورے ملک میں وقف اراضی 18 لاکھ ایکڑ تھی جس کے بعد اس میں 21 لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے بعد ہماچل پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک جیسی مختلف ریاستوں میں گاؤں، مندروں اور متنازعہ زمینوں کو وقف زمین قرار دیا جانے لگا۔ یہاں تک کہ پریاگ راج کے چندر شیکھر آزاد پارک پر بھی وقف جائیداد ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی نامور چرچ اس وقف (ترمیمی) بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ غریبوں، یتیموں اور بیوہ مسلم خواتین کے فائدے کے لیے وقف املاک کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں کروڑوں روپے کی وقف املاک کی آمدنی صرف 126 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگ جنہوں نے وقف املاک پر قبضہ کر رکھا ہے وہ انہیں 100-100 سال کے لیز پر ہوٹلوں اور دیگر مقاصد کے لیے مہنگے داموں پر دے رہے ہیں۔ امیت شاہ نے کہا کہ متولی وقف املاک کا منیجر ہے، اگر کوئی وقف املاک کے ساتھ بے ایمانی کر رہا ہے تو کیا اسے قانون کے مطابق سزا نہیں ہونی چاہئے۔ شاہ نے کہا کہ 013 میں وقف ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے مطابق وقف کے معاملات کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس ترمیمی بل میں ایسی دفعات ہیں کہ اگر کوئی چاہے تو وقف کے فیصلوں کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ بل شفاف ہے۔