داعش کے مشتبہ ارکان نے ٹرائل دھماکہ کیا تھا

دھماکو انکشاف میں شیواموگہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس بی ایم لکشمی کمار نے جمعہ کے دن بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ/ داعش سے روابط رکھنے کے الزام میں گرفتار افراد نے شیواموگہ میں دریائے تنگا کے کنارے ٹرائل بم دھماکہ کیا تھا۔

شیواموگہ(کرناٹک): دھماکو انکشاف میں شیواموگہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس بی ایم لکشمی کمار نے جمعہ کے دن بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ/ داعش سے روابط رکھنے کے الزام میں گرفتار افراد نے شیواموگہ میں دریائے تنگا کے کنارے ٹرائل بم دھماکہ کیا تھا۔

انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ملزمین نے تجرباتی بنیاد پر 3 فیٹ ریڈئیس کا کم شدت والا دھماکہ کیا تھا۔ یہ لوگ بڑے منصوبہ پر عمل کرنے سے قبل ایسے کئی ٹرائل دھماکے کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ کافروں پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔

ہم نے انہیں ان کے منصوبہ پر عمل درآمد سے قبل گرفتار کرلیا۔ پولیس کو ٹرائل دھماکہ کے مقام کا پتہ چل گیا اور وہاں سے اس نے ایف ایس ایل ٹیم کی مدد سے بم کی باقیات کو برآمد کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سلفر اور فاسفورس ملا ہے جو ڈیٹونیٹر کے طورپر کام کرتے ہیں۔

پولیس اس مواد کا کیمیکل تجزیہ کرارہی ہے۔ پولیس نے اسلامک اسٹیٹ / داعش سے روابط کے الزام میں 19 ستمبر کو شیواموگہ کے سید یٰسین اور منگلورو کے معاذ منیراحمد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ دونوں پولیس تحویل میں ہیں۔ ایک اور ملزم شارق فرار ہے لیکن اس کی کار ضبط کرلی گئی ہے۔

یٰسین نے جو الکٹریکل انجینئر ہے‘ایک آلہ آن لائن اسٹور سے خریدا تھا۔ بیاٹری‘ وائر اور دیگر سامان اس نے مقامی سطح پر خریدا تھا۔ ملزمین نے چیاٹ اپلیکیشن ٹیلی گرام پر اسلامک اسٹیٹ کے ون وے کمیونیکیشن چیانل الحیات پر ویڈیوز دیکھ کر بم بنانا سیکھا تھا۔ یہ لوگ ون وے کمیونیکیشن چیانل کے ارکان تھے۔

پولیس عہدیدار نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ سے ان کے راست روابط کی تاحال کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ملزمین نے اسلامک اسٹیٹ کی آئیڈیالوجی سے اتفاق کیا تھا اور یہ لوگ خلافت قائم کرتے ہوئے اور شرعی قانون نافذ کرتے ہوئے حقیقی آزادی کے حصول پر یقین رکھتے ہیں۔

ان لوگوں کا ماننا ہے کہ ہندوستان کو انگریزوں سے تو آزادی مل گئی لیکن حقیقی آزادی خلافت کے قیام کے بعد ہی نصیب ہوگی۔ پولیس عہدیدار نے کہا کہ یٰسین اور منیر‘ یونیورسٹی تعلیم کے دور سے قبل ہی ایک دوسرے سے واقفیت رکھتے تھے۔

شارق نے ان لوگوں کو اسلامک اسٹیٹ کی آئیڈیالوجی سے روشناس کرایا تھا۔ پولیس کو شیواموگہ میں 15 اگست کی جھڑپوں کے فوری بعد شارق کے رول کا پتہ چل گیا تھا۔ چھرا مارنے کے کیس کا ملزم ذبیح اللہ بھی شارق کی وجہ سے اسلامک اسٹیٹ کے نظریہ کے زیراثر آیا تھا۔ پولیس کرپٹو کرنسی کے ذریعہ یٰسین‘ منیر اور شارق کے مالی معاملات کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے 14موبائل فون‘ ایک ڈونگل‘ 2 لیاپ ٹاپ‘ ایک پین ڈرائیور اور چند دیگر الکٹرانک آلات ضبط کئے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کہا کہ ملزمین نے ٹرائل دھماکہ کے مقام پر ترنگا بھی جلایا تھا۔ ان لوگوں نے اس کی ریکارڈنگ کی تھی۔ ہمیں یہ ویڈیو کلپ مل گئی ہے۔