آپریشن آکٹوپس، 16 ریاستوں سے 117 مشتبہ افراد گرفتار
پولیس کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ گرفتاریاں سائبر کرائم کے 74 کیسز کے سلسلہ میں عمل میں لائی گئی ہیں جن میں 63 ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری کے فراڈ، 6ڈیجیٹل گرفتاری کے دھوکے، چار او ٹی پی دھوکہ اور ایک سوشل میڈیا سے متعلقہ دھوکہ دہی کا معاملہ شامل ہے۔
حیدرآباد: حیدرآباد سٹی سائبر کرائم پولیس اسٹیشن (سی سی پی ایس )نے فروری کے ماہ میں ایک خصوصی مہم آپریشن آکٹوپس کے تحت 78 ایف آئی آر درج کرتے ہوئے 16 ریاستوں سے 117 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ گرفتاریاں سائبر کرائم کے 74 کیسز کے سلسلہ میں عمل میں لائی گئی ہیں جن میں 63 ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری کے فراڈ، 6ڈیجیٹل گرفتاری کے دھوکے، چار او ٹی پی دھوکہ اور ایک سوشل میڈیا سے متعلقہ دھوکہ دہی کا معاملہ شامل ہے۔
اس کارروائی کے دوران پولیس متاثرین کو 34.76 لاکھ روپے واپس دلوانے میں بھی کامیاب رہی۔ تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ملزمان ملک بھر میں سائبر کرائم کے 1,081 معاملات میں ملوث تھے اور ان کے بینک کھاتوں سے تقریباً 139 کروڑ روپے کی لین دین ہوئی ہے۔
اس مہم کے دوران پولیس نے 36 لاکھ روپے نقد، 221 موبائل فون، 26 لیپ ٹاپ، 115 چیک بکس، 141 سم کارڈز اور دیگر اہم دستاویزات ضبط کئے۔ اس کے علاوہ، نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے ذریعہ موصول ہونے والی 2,963 درخواستوں میں سے 461 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 9معاملات میں ملوث 11 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
سائبر پٹرولنگ کے دوران پولیس نے آن لائن گیمنگ اور بٹنگ کو فروغ دینے والے 124 فیس بک اور انسٹاگرام پروفائلس کو بھی بلاک کروایا۔
ایک اہم کیس میں حیدرآباد کے ایک شہری سے شادی اور سرمایہ کاری کے نام پر 11.17 لاکھ روپے کا دھوکہ کرنے والے ملزم پرسنا کمار کو کمبوڈیا سے واپسی پر چینئی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا جبکہ کرپٹو کرنسی دھوکہ کے ایک اور کیس میں مہاراشٹر، راجستھان اور حیدرآباد سے تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔