حیدرآباد

پارکنگ کے جھگڑے نے لے لی ایک جان، ٹولی چوکی میں ایم بی اے طالب علم کا بے دردی سے قتل

مقتول کی شناخت محمد عرفان کے طور پر کی گئی ہے، جو ٹولی چوکی کا رہائشی تھا اور ایک کالج میں ایم بی اے کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ عرفان اپنے خاندان کی کفالت کے لیے دن کے اوقات میں آٹو رکشا چلاتا تھا۔ مقتول کی شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ واقعہ اتوار کی رات ٹولی چوکی پولیس اسٹیشن حدود میں واقع پیراماؤنٹ کالونی میں پیش آیا، جہاں ایک 21 سالہ نوجوان کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد کےمسلم معاشرے میں ٹال مٹول، ترقی کی رفتار سست کرنے والا ایک خاموش مسئلہ
قدیم کیس میں ملے پلی قیصر گرفتار
مسلم جنرل ہاسپٹل ٹولی چوکی میں چھ روزہ مفت پیڈیاٹرک کیمپ کا انعقاد
ہندوستان کی پہلی خاتون میوزک ٹیکنیشن اور صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ساجدہ خان کو وندھیا ندھیا گورو ایوارڈ
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا

مقتول کی شناخت محمد عرفان کے طور پر کی گئی ہے، جو ٹولی چوکی کا رہائشی تھا اور ایک کالج میں ایم بی اے کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ عرفان اپنے خاندان کی کفالت کے لیے دن کے اوقات میں آٹو رکشا چلاتا تھا۔ مقتول کی شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق، ہفتہ کی رات 5 سے 6 افراد عرفان کے گھر پہنچے اور اسے پیراماؤنٹ کالونی گیٹ نمبر ایک لے گئے، جہاں چاقوؤں سے وحشیانہ حملہ کر کے اسے قتل کر دیا گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ٹولی چوکی پولیس موقع واردات پر پہنچی اور نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عثمانیہ ہاسپٹل کے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا۔

مقتول کی والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ عرفان کے چھوٹے بھائی عدنان نے اپنی گاڑی سڑک پر پارک کی تھی، جس پر کچھ افراد سے جھگڑا ہوا۔ بعد ازاں ان افراد نے اپنے ساتھیوں کو اطلاع دی، جو عرفان کے گھر پہنچے، بحث و تکرار کے بعد اسے اپنے ساتھ لے گئے اور قتل کر دیا۔

پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ واقعے سے علاقے میں شدید سنسنی پھیل گئی ہے۔

مسلم معاشرے میں قتل جیسی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ واقعی افسوسناک ہے۔ دین سے دوری، اخلاقی زوال اور قانون کے خوف میں کمی اس بگڑتے ہوئے حالات کی بڑی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ شہر میں باہر سے آنے والے بعض افراد نے حیدرآباد کے پرامن ماحول کو آلودہ کر دیا ہے، جہاں کبھی تہذیب، برداشت اور بھائی چارے کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس شہر کی شناخت کو نقصان پہنچانے والوں پر کب لگام کسی جائے گی اور معاشرہ خود احتسابی کی طرف کب بڑھے گا؟