آبنائے ہرمز میں پھر کشیدگی، آئل ٹینکر پر میزائل حملہ؛ سعودی آئل ریفائنری بھی نشانے پر
آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر ایران کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا، جس کے بعد جہاز میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ حملے کے دوران قریب موجود ایک دوسرے آئل ٹینکر کو بھی معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر ایران کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا، جس کے بعد جہاز میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ حملے کے دوران قریب موجود ایک دوسرے آئل ٹینکر کو بھی معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم حملے کا نشانہ بننے والے دونوں آئل ٹینکرز کا تعلق کس ملک سے ہے اور ان پر موجود عملے کے افراد محفوظ ہیں یا نہیں، اس بارے میں فی الحال تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں بحری راستوں سے متعلق امریکہ اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب مقامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے جنوب میں فضائی حدود میں پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب، یعنی آئی آر جی سی، کی فورسز نے مار گرایا ہے۔
ادھر سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان بھی کشیدگی برقرار ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بندرگاہ پر حملہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس میں سات افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔
حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کی جازان ریفائنری کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد آئل ریفائنری میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
حملے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس صورتحال کے درمیان ایک اور اہم پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے حال ہی میں ’مکہ معاہدہ‘ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دیگر دو ممالک پر حملے کے مترادف سمجھتے ہوئے مشترکہ طور پر اس کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔
ایسے میں معاہدے کے چند ہی روز بعد حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد اب مشرق وسطیٰ کی صورتحال کس رخ اختیار کرتی ہے، اس پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔