منچریال میں علاج میں مبینہ تاخیر پر مریضہ کے بیٹے کا احتجاج، ماں کو وہیل چیئر پر ایم ایل اے کی رہائش گاہ پہنچایا
تلنگانہ کے منچریال ضلع میں سرکاری اسپتال میں مناسب علاج نہ ملنے کا الزام لگاتے ہوئے ایک شخص اپنی بیمار ماں کو وہیل چیئر پر بٹھا کر مقامی ایم ایل اے پریم ساگر راؤ کی رہائش گاہ پہنچ گیا اور احتجاج کیا۔ واقعے کی ویڈیوز بدھ کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔
منچریال: تلنگانہ کے منچریال ضلع میں سرکاری اسپتال میں مناسب علاج نہ ملنے کا الزام لگاتے ہوئے ایک شخص اپنی بیمار ماں کو وہیل چیئر پر بٹھا کر مقامی ایم ایل اے پریم ساگر راؤ کی رہائش گاہ پہنچ گیا اور احتجاج کیا۔ واقعے کی ویڈیوز بدھ کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔
تفصیلات کے مطابق، مندامری منڈل کے پلیمڈگو گاؤں کی رہنے والی بھوکیا بُجّی کچھ عرصے سے گردے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ منگل کی نصف شب ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، جس کے بعد ان کا بیٹا راج کمار انہیں علاج کے لیے منچریال کے سرکاری جنرل اسپتال لے کر پہنچا۔
راج کمار نے الزام عائد کیا کہ اسپتال پہنچنے کے باوجود طبی عملے نے فوری توجہ نہیں دی اور ان کی والدہ کو بستر بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ جب اس نے اسپتال کے عملے سے اس بارے میں سوال کیا تو مبینہ طور پر اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔
اس صورتحال سے ناراض راج کمار اپنی والدہ کو وہیل چیئر پر بٹھا کر اسی رات اسپتال سے تقریباً دو کلومیٹر دور واقع ایم ایل اے پریم ساگر راؤ کی رہائش گاہ پہنچ گیا۔ وہاں اس نے اپنی والدہ کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے اسپتال میں مناسب علاج فراہم نہ کیے جانے کی شکایت کی۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد سرکاری اسپتال کے آر ایم او شری دھر ایم ایل اے کی رہائش گاہ پہنچے اور متاثرہ خاندان سے بات چیت کی۔ بعد ازاں بھوکیا بُجّی کو دوبارہ سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
تاہم، آر ایم او شری دھر نے مریضہ کے علاج میں تاخیر کے الزام کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کی جانب سے علاج میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔ آر ایم او کے مطابق، مریضہ کے بیٹے نے اسپتال کے عملے کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی اور ایک سکیورٹی اہلکار پر حملہ بھی کیا۔
آر ایم او نے بتایا کہ مریضہ کو فوری ڈائلیسس کی ضرورت تھی اور اسی وجہ سے انہیں بہتر طبی سہولتوں کے لیے اعلیٰ مرکز منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ بعد میں بھوکیا بُجّی کو مزید علاج کے لیے ورنگل کے ایم جی ایم اسپتال منتقل کردیا گیا۔
واقعے کے بعد سرکاری اسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں اور عملے کے رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم، اسپتال انتظامیہ نے علاج میں کسی قسم کی تاخیر سے انکار کرتے ہوئے مریضہ کے بیٹے کے رویے سے متعلق اپنا مؤقف بھی پیش کیا ہے۔