تلنگانہ

پنجوں کے نشانات۔تلنگانہ کے ضلع کریم نگر میں شیر کی موجودگی کی تصدیق

سرچ آپریشن کے دوران، محکمہ جنگلات کے حکام کورکما پور کے مضافات میں کھیتوں سے اس کے پنجوں کے نشانات ملے ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ یہ ایک نر شیر ہے جس کی عمر تقریباً تین سے چار سال کے درمیان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر قریبی دیہاتوں کے مکینوں کو چوکس کر دیا گیا ہے اور نگرانی میں مدد کے لئے ہر گاؤں میں دو والینٹرتعینات کئے گئے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع کریم نگرمیں پنجوں کے نشانات کے ذریعہ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے شیر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

متعلقہ خبریں
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
محبوب نگر میں جامع مسجد میں دعوتِ افطار، مسلم کارپوریٹرس کی تہنیتی تقریب میں رکن اسمبلی اینم سرینواس ریڈی کی شرکت
حضرت امام حسنؓ کا اسوۂ حسنہ آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب


اس شیرکی نقل و حرکت کے باعث مقامی افرادمیں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ شیربہادر خان پیٹ اور ویڈوگٹہ دیہاتوں سے ہوتا ہوا اب چپہ ڈنڈی منڈل کے گاؤں رکما پور کی طرف بڑھ گیا ہے۔


سرچ آپریشن کے دوران، محکمہ جنگلات کے حکام کورکما پور کے مضافات میں کھیتوں سے اس کے پنجوں کے نشانات ملے ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ یہ ایک نر شیر ہے جس کی عمر تقریباً تین سے چار سال کے درمیان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر قریبی دیہاتوں کے مکینوں کو چوکس کر دیا گیا ہے اور نگرانی میں مدد کے لئے ہر گاؤں میں دو والینٹرتعینات کئے گئے ہیں۔


محکمہ جنگلات نے عوام کو آئندہ ایک ہفتہ تک انتہائی محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ کسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح 7 بجے سے پہلے اور شام 5 بجے کے بعد کھیتوں میں جانے سے گریز کریں۔ کسانوں کو تنہا کھیتوں میں نہ جانے اور ہمیشہ گروپ کی شکل میں نقل و حرکت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔


حکام کا کہنا ہے کہ شیرشکار کے دوران روزانہ 60 سے 70 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے تاہم کریم نگر ضلع شیر کے مستقل مسکن کے لیے موزوں نہیں ہے کیونکہ یہاں جنگلاتی رقبہ محض 1.5 فیصد ہے۔

ماہرینِ جنگلات کی رائے ہے کہ یہ شیر ممکنہ طور پر ساتھی کی تلاش میں اپنے علاقہ سے باہر نکل آیا ہے۔ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ شیر آگے بڑھے گا یا سمت بدل کر دریائے گوداوری کو عبور کرتے ہوئے منچریال کی طرف نکل جائے گا۔