حیدرآباد

عوام نے کے سی آر کی پتلون ڈھیلی کردی، اسمبلی میں ان کے کپڑے اتاردوں گا:ریونت ریڈی

چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر کو چاہئے کہ وہ اسمبلی میں آکر آبپاشی پروجیکٹ پر مباحث میں حصہ لیں۔ ہم کل میڈی گڈہ پر وائٹ پیپر بھی جاری کریں گے۔ کے سی آر کو اس پر بات کرنے کیلئے وقت مقرر کریں گے۔

حیدرآباد: چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ہم تین دن سے ایوان میں آبپاشی پراجیکٹس کے مسئلہ پر بات کررہے ہیں۔ ہم عوام بالخصوص کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے پابند ہیں۔

متعلقہ خبریں
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میڈارم کا دو روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
اولیاء اللہ کے آستانے امن و سلامتی، یکجہتی اور بھائی چارہ کے مراکز،ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے غیر ملکی طلباء کا دورہ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ
جماعت اسلامی ہند کا "احترام انسانیت” مہم کا اختتامی جلسہ حیدرآباد میں

چنانچہ ہم نے کل میڈی گڈہ بیاریج کا معائنہ کیا جہاں گذشتہ سیلاب میں میڈی گڈہ بیارج کے پلرس میں شگاف پڑ گئے تھے ہم نے اپوزیشن قائد کے سی آر کو بھی دورہ میں شامل ہونے کی دعوت دی مگر وہ نلگنڈہ کے جلسہ میں گئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اس سے اندازہ ہوگیا ہے کہ کے سی آر کو تلنگانہ کے مفادات سے کتنی دلچسپی ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر کو چاہئے کہ وہ اسمبلی میں آکر آبپاشی پروجیکٹ پر مباحث میں حصہ لیں۔ ہم کل میڈی گڈہ پر وائٹ پیپر بھی جاری کریں گے۔ کے سی آر کو اس پر بات کرنے کیلئے وقت مقرر کریں گے۔

انہوں نے کے سی آر کے نلگنڈہ میں دئیے گئے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں عوام نے ان کی پینٹ ڈھیلی کردی اگر وہ یہاں (اسمبلی) آئیں گے تو میں ان کے کپڑے اتار دوں گا، کے سی آر، ہڈی ٹوٹنے کا بہانہ بنا کر وہیل چیر کا استعمال کررہے ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی حاصل کی جائے۔

 ریونت ریڈی نے سوال کیا کہ آئندہ جون، جولائی میں بارش ہوگی۔ میڈی گڈہ میں پانی کیسے بھرا جائے گا۔ کل تک وقت ہے آپ کو بحث مں ی حصہ لینے کا۔چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کے سی آر کے اس الزام کو بھی مسترد کردیا ”انہیں مارنے کی سازش کی جارہی ہے“۔ انہوں نے کہا کہ ”مرے ہوئے سانپ کو کون مارے گا؟“۔

 چیف منسٹر نے اسپیکر سے درخواست کی ہے کہ وہ کے سی آر کو کل ایوان میں حاضر ہونے اور مباحث میں حصہ لینے کا مشورہ دیں۔ کے سی آر کے خلاف چیف منسٹر کے سخت ریمارکس پر ٹی ہریش راؤ اور تمام بی آر ایس ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوگئے اور چیف منسٹر کے ریمارکس کو ریکارڈ سے حذف کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔

 ایک مرتبہ بی آر ایس ارکان پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کرنے لگے۔ اسپیکر نے راج گوپال ریڈی کو بجٹ میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ اس دوران راجگوپال ریڈی نے بھی بی آر ایس ارکان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خلاف سحت ریماکس کئے۔ اس دوران بی آر ایس ارکان ایوان سے واک آوٹ کردیا اور باہر چلے گئے۔

 ان کے بعد کانگریس ارکان اور بی جے پی رکن مہیشور ریڈی نے بجٹ پر مباحث میں حصہ لیا۔ کے سی آر کے خلاف ریمارکس کے جواب میں کڈیم سری ہری نے سخت اعتراض کیا اور کہا کہ چیف منسٹر کو اس طرح کے نا زیبا ریماکس کرنا زیب نہیں دیتا۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ ایوان کا احترام کریں۔ کڈیم سری ہری کے اس ریمارکس پر راجگوپال ریڈی نے شدید برہمی کااظہار کیا۔