حیدرآباد

کمشنر پولیس حیدرآباد کی جانب سے فون ٹیپنگ کیس کو غیر قانونی قراردینے پر ہریش راو کا اعتراض

ہریش راؤ نے یہ ردعمل سجنار کی اس ایکس (ٹویٹر) پوسٹ کے جواب میں دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی ٹی نے غیر قانونی فون ٹیپنگ کیس میں گجویل کے ایم ایل اے اور سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ سے پوچھ گچھ مکمل کر لی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے سابق وزیروبی آرایس لیڈرہریش راو نے حیدرآباد کے پولیس کمشنر اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ وی سی سجنار کے ان ریمارکس پر سخت اعتراض کیا جس میں انہوں نے فون ٹیپنگ کیس کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
حکومت کی انہدامی کارروائی، پارٹی، متاثرین کو مفت قانونی امداد فراہم کرے گی: ہریش راؤ
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
فون ٹیاپنگ کیس کی تحقیقات میں حیران کن پہلوؤں کا انکشاف
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

ہریش راؤ نے دلیل دی کہ کسی بھی معاملہ کو عدالتی فیصلے سے قبل غیر قانونی قرار دینا قانونی طور پر ناقابل قبول اور آئین کے خلاف ہے۔


ہریش راؤ نے یہ ردعمل سجنار کی اس ایکس (ٹویٹر) پوسٹ کے جواب میں دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی ٹی نے غیر قانونی فون ٹیپنگ کیس میں گجویل کے ایم ایل اے اور سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ سے پوچھ گچھ مکمل کر لی ہے۔

ہریش راؤ نے اپنے سخت الفاظ پر مبنی بیان میں کہا کہ تحقیقاتی اداروں کو پیشہ ورانہ اور قانون کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ ایک تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ کا عوامی طور پر ایسی زبان استعمال کرنا، جو جاری تحقیقات کے نتائج کا پہلے سے فیصلہ کر لے، انتہائی تشویشناک ہے۔

ہریش راؤ نے دستورِ ہند کے آرٹیکل 21 اور بے گناہی کے مفروضہ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک کوئی مجاز عدالت فیصلہ نہ سنا دے کسی بھی الزام کو جرم نہیں مانا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیس کا کام صرف جانچ کرنا ہے، وہ جج یا فیصلہ سنانے والے نہیں ہیں۔ کسی بھی عمل کی قانونی حیثیت کا تعین صرف عدالتی نظرثانی سے ہو سکتا ہے، نہ کہ پولیس کے سرکاری بیانات سے۔