تلنگانہ

فون ٹیپنگ معاملہ۔کے ٹی راما راو نے چندرشیکھرراو کو نوٹس پراعتراض کیا

فون ٹیپنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی نے چندرشیکھرراوکو دوبارہ نوٹس جاری کی ہے۔ اگرچہ کہ کے چندرشیکھرراو نے اپنی ایراولی رہائش گاہ پر پوچھ گچھ کی درخواست کی تھی لیکن حکام نے نندی نگر والے گھر پر ہی پوچھ گچھ کرنے پر اصرار کیا ہے۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے بی آر ایس سربراہ و سابق وزیراعلی کے چندر شیکھر راؤ کے تئیں رویہ پر شدید نکتہ چینی کی۔

متعلقہ خبریں
سوشل میڈیا پوسٹ، کے ٹی آر کے خلاف 2کیس درج
فون ٹیاپنگ کیس کی تحقیقات میں حیران کن پہلوؤں کا انکشاف
کمشنرحیدرا نے میڈارم جاترا میں درشن کئے
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،


کے ٹی آر نے اپوزیشن لیڈرکے چندرشیکھرراو کی رہائش گاہ پر ایس آئی ٹی کی جانب سے نوٹس چسپاں کئے جانے پر شدید اعتراض کیا۔


کے ٹی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے چندرشیکھرراو نے خود پولیس کو اپنے جواب میں اپنی رہائش گاہ کا پتہ فراہم کیا تھا، اس کے باوجود تحقیقاتی حکام نے رات کے وقت، جب گھر میں کوئی موجود نہیں تھا دیوار پر نوٹس چسپاں کیا۔ انہوں نے اسے شیطانی خوشی حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ تکبر نہیں ہے؟


فون ٹیپنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی نے چندرشیکھرراوکو دوبارہ نوٹس جاری کی ہے۔ اگرچہ کہ کے چندرشیکھرراو نے اپنی ایراولی رہائش گاہ پر پوچھ گچھ کی درخواست کی تھی لیکن حکام نے نندی نگر والے گھر پر ہی پوچھ گچھ کرنے پر اصرار کیا ہے۔

کے ٹی راما راو نے مزید کہا کہ قوانین کے مطابق 65 سال سے زائد عمر کے افراد سے ان کی رہائش گاہ پر ہی پوچھ گچھ ہونی چاہیے لیکن پولیس ان قواعد کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔


انہوں نے پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ کی پولیس کو ایس او پی کا علم ہے یا انہیں صرف اپوزیشن لیڈروں کو ہراساں کرنے کا کام سونپا گیا ہے؟ کے ٹی آر نے واضح کیا کہ انہیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے اور وہ ان تمام غیر قانونی مقدمات کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تلنگانہ کے عوام اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کو دیکھ رہے ہیں اور وقت آنے پر اس کا بھرپور جواب دیں گے۔