فون ٹیپنگ کیس: تلنگانہ کے سابق وزیر ہریش راؤ سے ایس آئی ٹی کی پوچھ گچھ
ہریش راؤ کو سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کی گئی تھی۔ جب وہ اپنے وکیل رامچندر راؤ کے ساتھ پہنچے تو پولیس نے وکیل کو اندر جانے سے روک دیا جس پر بی آر ایس کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید بحث و تکرار ہوئی۔
حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاست میں ہلچل مچا دینے والے فون ٹیپنگ کیس میں سابق ریاستی وزیرو بی آر ایس کے سینئر لیڈر ہریش راؤسے ایس آئی ٹی کے عہدیداروں نے پوچھ گچھ کی۔
وہ آج صبح 11 بجے جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔
ہریش راؤ کو سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کی گئی تھی۔ جب وہ اپنے وکیل رامچندر راؤ کے ساتھ پہنچے تو پولیس نے وکیل کو اندر جانے سے روک دیا جس پر بی آر ایس کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید بحث و تکرار ہوئی۔
جانچ ٹیم کی قیادت کمشنرپولیس حیدرآباد سجنار کر رہے تھے۔ یہ پوچھ گچھ ایک نیوز چینل کے ایم ڈی شراون راؤ اور زیرِ حراست دیگر پولیس عہدیداروں کے بیانات کی روشنی میں کی گئی۔
ہریش راؤ پر الزام ہے کہ انہوں نے منوگوڑو اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے دوران شراون راؤ کو کچھ مخصوص فون نمبرات دیئے تھے تاکہ ان کی جاسوسی کی جا سکے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس پورے عمل کے پیچھے اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا۔
پوچھ گچھ کے دوران ہریش راؤ نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے پرانے عدالتی فیصلوں کی کاپیاں پیش کیں تاکہ اپنے دفاع کو مضبوط کر سکیں۔
مارچ 2024 میں درج ہوئے اس کیس میں پولیس اب حتمی چارج شیٹ داخل کرنے کے قریب ہے۔ پولیس عہدیداروں سے پوچھ گچھ مکمل ہو چکی ہے اور اب صرف سیاسی قائدین کے کردار کا تعین ہونا باقی ہے۔ ہریش راؤ سے ہونے والی یہ پوچھ گچھ اس کیس کا رخ طے کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔