تلنگانہ میں جلد اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کا منصوبہ، نئے بجلی کنکشن سے ہوگی شروعات
تلنگانہ حکومت ریاست بھر میں بجلی کے کنکشن کو اسمارٹ میٹروں سے تبدیل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ منصوبے کے تحت سب سے پہلے نئے بجلی کنکشن کے لیے اسمارٹ میٹر نصب کیے جائیں گے، جبکہ پرانے کنکشن کو بھی مرحلہ وار اس نظام میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت ریاست بھر میں بجلی کے کنکشن کو اسمارٹ میٹروں سے تبدیل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ منصوبے کے تحت سب سے پہلے نئے بجلی کنکشن کے لیے اسمارٹ میٹر نصب کیے جائیں گے، جبکہ پرانے کنکشن کو بھی مرحلہ وار اس نظام میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق، ریاست کی کانگریس حکومت بجلی کی فراہمی اور بلنگ کے نظام کو جدید بنانے کے لیے اسمارٹ میٹرنگ نظام متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ منصوبے کے تحت نئے کنکشن کے ساتھ اسمارٹ میٹر کی تنصیب کو لازمی بنایا جا سکتا ہے، جبکہ موجودہ صارفین کے عام میٹروں کو بھی مختلف مراحل میں اسمارٹ میٹروں سے تبدیل کیا جائے گا۔
اسمارٹ میٹر ہر ماہ کی 30 یا 31 تاریخ کی نصف شب بجلی کے استعمال کی ریڈنگ خودکار طور پر ریکارڈ کرے گا اور متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی کو بھیج دے گا۔ اس کے بعد صارفین کو بجلی کا بل تیار کر کے فراہم کیا جائے گا۔
حکومت تمام سرکاری دفاتر میں پری پیڈ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کو بھی لازمی بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ پری پیڈ میٹر کے تحت بجلی کے استعمال سے قبل صارف یا ادارے کو رقم ریچارج کرانی ہوگی اور استعمال کے مطابق رقم منہا کی جائے گی۔
تاہم، اسمارٹ میٹروں کی قیمت عام بجلی میٹروں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی وجہ سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکامس) اس اضافی لاگت کو صارفین سے وصول کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔
اگر یہ منصوبہ نافذ ہوتا ہے تو تلنگانہ میں بجلی کے استعمال، میٹر ریڈنگ اور بلنگ کے نظام میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم، اسمارٹ میٹروں کی قیمت اور اس کا مالی بوجھ کس حد تک صارفین پر ڈالا جائے گا، یہ آئندہ دنوں میں ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔