فہیم الدین قریشی نے اقلیتی تعلیمی اداروں کا اچانک دورہ کیا
حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی صرف اچھے نتائج تک محدود نہیں ہوتی بلکہ طلبہ کے لیے ایک محفوظ، صاف ستھرا، صحت مند اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ مائنارٹیز ریزیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز سوسائٹی کے صدر محمد فہیم الدین قریشی نے طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیمی اور رہائشی سہولیات کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے تلنگانہ مائنارٹیز ریزیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنزبہادرپورہ گرلز–1 اور گولکنڈہ گرلز جونیئر کالج سنٹر آف ایکسیلنس کا اچانک دورہ کیا۔
اس موقع پر حکومتِ تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود اور سکریٹری جناب بی شفیع اللہ، آئی ایف ایس بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران دونوں عہدیداروں نے اداروں کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی معیار، طالبات کی تعلیمی پیش رفت، نظم و ضبط، حاضری، طلبہ کی فلاح و بہبود، صفائی و حفظانِ صحت، بنیادی ڈھانچے، کلاس رومز، ہاسٹل کی سہولیات اور دیگر انتظامی امور کا معائنہ کیا۔
انہوں نے ادارے کے مختلف شعبوں کا دورہ کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں اور عملے سے انتظامی و تعلیمی امور کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ طالبات کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔
محمد فہیم الدین قریشی نے طالبات اور تدریسی و غیر تدریسی عملے سے براہِ راست ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل اور ضروریات کے بارے میں دریافت کیا اور طالبات کو محنت، نظم و ضبط اور تعلیم پر بھرپور توجہ دینے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی تعلیمی اداروں کا مقصد صرف نصابی تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، ذہنی و جسمانی نشوونما اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے انہیں تیار کرنا بھی ہے۔ معائنے کے دوران متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ تعلیمی معیار میں مسلسل بہتری، بہتر بنیادی سہولیات، صفائی کے اعلیٰ معیار، ہاسٹل کی مناسب دیکھ بھال اور طالبات کی حفاظت و سلامتی کو ہر حال میں یقینی بنایا جانہ چاہیے ۔
حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی صرف اچھے نتائج تک محدود نہیں ہوتی بلکہ طلبہ کے لیے ایک محفوظ، صاف ستھرا، صحت مند اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ طالبات کو درپیش مسائل کی بروقت نشاندہی کرکے انہیں فوری طور پر حل کیا جائے اور اداروں میں موجود سہولیات کی مسلسل نگرانی کی جائے، تاکہ طالبات اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاسکیں۔ اس موقع پر سوسائٹی کی جانب سے تعلیمی معیار، نظم و ضبط، طلبہ کی فلاح و بہبود اور ہمہ جہت ترقی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کو معیاری اور مسابقتی تعلیم کے ساتھ ایسا ماحول فراہم کرنا ترجیح ہے جہاں وہ اعتماد کے ساتھ اپنے مستقبل کے اہداف حاصل کرسکیں اور معاشرے میں ایک باصلاحیت، ذمہ دار اور کامیاب شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرسکیں۔
تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ مائنارٹیز ریزیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز سوسائٹی کی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست بھر میں اقامتی تعلیمی اداروں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی اور جہاں بھی بہتری کی گنجائش ہوگی وہاں فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ ہر طالب علم کو بہتر تعلیم، محفوظ ماحول، صاف ستھری رہائش اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بہترین مواقع میسر آسکیں۔