مذہب

نعت گو کو رسول اللہ نے اپنا منبر اور اپنی چادر عنایت فرمائی

ڈاکٹر مبشر احمد نشتر کو “الانصار ایوارڈ”، مولانا قاضی اسد ثنائی کا خطاب

ڈاکٹر مبشر احمد نشتر کو “الانصار ایوارڈ”، مولانا قاضی اسد ثنائی کا خطاب

حیدرآباد      : شاعر دربار رسالت حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا منبر عطا فرمایا کہ وہ منبر رسول سے دشمنان رسول کا منہ توڑ جواب دیں اور حضور کی مدح و ثنا کریں، حضرت کعب ابن زہیر رضی اللہ عنہ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت اقدس میں اپنا نعتیہ قصیدہ”بانت سعاد”  پیش کیا تو آقاے نامدار صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں اپنی چادر مبارک عطا فرمائی اسی طرح صاحب قصیدہ بردہ حضرت امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی حضور نے اپنی چادر مبارک عطا فرمائی جبکہ آپ نے حالت خواب میں حضور کی خدمت میں قصیدہ بردہ پیش کیا تھا اسی چادر کی برکت سے امام بوصیری فالج کے مرض سے شفا یاب ہوے

 جانشین و خلف حضرت عمدۃ القراء حضرت مولانا قاضی ابواللیث شاہ محمد غضنفر علی قریشی اسد ثنائی صدر نشین الانصار فاؤنڈیشن نے فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اے آر گارڈن فنکشن ہال میں محب زماں، انصار العلماء، عمدۃ القراء حضرت علامہ قاضی محمد انصار علی قریشی جاوید نقشبندی قادری علیہ الرحمہ سابق استاذ جامعہ نظامیہ و جامعہ باقیات صالحات ویلور کی 30 ویں سالانہ فاتحہ کے موقع پر چہارشنبہ 19/ اگسٹ کو منعقدہ بارہویں الانصار ایوارڈ تقریب میں خطبہ صدارت دیتے ہوے ان خیالات کا اظہار کیا

 قاری محمد نور نقشبندی کی قرأت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا مولانا قاضی اسد ثنائی نے مزید کہا کہ الانصار فاؤنڈیشن گزشتہ گیارہ سالوں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کرتے ہوے اردو کے نامور نعت گو شعراء کی خدمت میں حضرت عمدۃ القراء علیہ الرحمہ کے نام نامی اسم گرامی سے موسوم “الانصار ایوارڈ” براے نعتیہ شعری خدمات پیش کرتا آ رہا ہے۔ امسال بارہواں باوقار “الانصار ایوارڈ” ( شال، مومنٹو اور کیسہ زر پر مشتمل) حیدرآباد کے ممتاز ادیب اور نعت نگار ڈاکٹر مبشر احمد نشترکو نگران تقریب پیر طریقت حضرت مولانا سید شاہ محمد رفیع الدین قادری شرفی سجادہ نشین بارگاہ حضرت سید علیم الدین شرفی علیہ الرحمہ کے ہاتھوں عطا کیا گیا۔

ایوارڈ کے حصول بعد خطاب کرتے ہوۓ ڈاکٹر مبشر احمد نشتر نے الانصار فاؤنڈیشن کے ارباب مجاز بالخصوص صدر فاؤنڈیشن قاضی اسد ثنائی کا اس قیمتی اور باوقار ایوارڈ کے لئے شکریہ ادا کیا انھوں نے کہا کہ ناقدری کے اس دور میں فنکاروں کی پذیرائی نہایت ضروری ہے ڈاکٹر نشتر نے اپنے خوبصورت نعتیہ اشعار سے سامعین کو محظوظ کیا اس خوبصورت اور نورانی تقریب میں عمدۃ الحکمہ حضرت مولانا سید شاہ نعمت اللہ قادری، مؤرخ جامعہ نظامیہ حضرت مولانا شاہ محمد فصیح الدین نظامی، انیس ملت حضرت مولانا عرفان اللہ شاہ نوری سیفی،حضرت مولانا محمد محی الدین قادری محمودی، حضرت مولانا مفتی محمد وجیہ اللہ سبحانی، حضرت مولانا سید عثمان محی الدین قادری ابوالعلائی علی پاشاہ سجادہ نشین، حضرت مولانا اسلم جاوید نقشبندی قادری، حضرت مولانا محمد عظمت اللہ نظامی،   جناب محمد وقار الدین مدیر ہفتہ وار وائس آف ایشیاء، آفتاب سخن جناب سردار سلیم، جناب سیف نظامی، ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری، جناب اکبر خان اکبر، جناب سید سمیع اللہ سمیع کے علاوہ شعراء اور سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی ڈاکٹر معین افروز نے نظامت کے فرائض انجام دیے رات دیر گئے ناظم محفل کے شکریہ اور نگران محفل کی دعا پر تقریب اختتام کو پہنچی۔