وزیراعظم مودی کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے مغربی ایشیا کے بحران پر گفتگو
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے جاری کشیدگی سے پیدا ہوئی صورتحال پر گفتگو کی اور اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ اور اس کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، جس میں مغربی ایشیا میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور اس کے علاقائی استحکام و عالمی توانائی سلامتی پر پڑنے والے اثرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے جاری کشیدگی سے پیدا ہوئی صورتحال پر گفتگو کی اور اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ اور اس کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔
پی ایم مودی نے توانائی کے مراکز پر حملوں کے خلاف ہندوستان کے سخت مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان یہ ایک بڑی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستوں میں استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیویگیشن کی آزادی کو یقینی بنایا جائے اور شپنگ راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھا جائے، خاص طور پر خلیجی خطے کے وہ راستے جہاں سے دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ مغربی ایشیائی ممالک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے وہ مسلسل کشیدگی کم کرنے اور اہم سپلائی چینز کے تحفظ پر زور دیتا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے سعودی عرب میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے سعودی قیادت کے مسلسل تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا، جو وہاں کے بڑے تارکینِ وطن گروپوں میں شامل ہے۔
یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی عروج پر ہے، توانائی کے مراکز پر حملوں اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات نے عالمی سطح پر تحمل اور علاقائی تعاون کی ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔