ہریانہ میں کل صبح 7 بجے سے پولنگ
پانچ سال بعد ووٹ دے کر اپنی حکومت منتخب کرنے کے لیے جس لمحہ کا انتظارہریانہ کے لوگ کر رہے تھے وہ وقت آ پہنچا ہے اور ہفتہ کو اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ مقرر ہے جس میں 1031 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔

چندی گڑھ(یواین آئی) پانچ سال بعد ووٹ دے کر اپنی حکومت منتخب کرنے کے لیے جس لمحہ کا انتظارہریانہ کے لوگ کر رہے تھے وہ وقت آ پہنچا ہے اور ہفتہ کو اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ مقرر ہے جس میں 1031 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔
ہریانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر پنکج اگروال کے مطابق کل 20354350 ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے۔ ریاست کے تمام 90 اسمبلی حلقوں میں کل 1031 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں اور ووٹنگ کے لیے 20632 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک ہوگی۔
اگروال نے کہا کہ 20354350 ووٹروں میں 10775957 مرد، 9577926 خواتین اور 467 تیسری صنف کے ووٹر ہیں۔ 18 سے 19 سال کی عمر کے 524514 نوجوان ووٹر ہیں۔ اسی طرح 149142 معذور ووٹرز ہیں۔ جن میں سے 93545 مرد، 55591 خواتین اور چھ تیسری صنف کے ووٹرز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 85 سال سے زیادہ عمر کے 231093 ووٹرز ہیں۔ جن میں سے 89940 مرد اور 141153 خواتین ووٹرس ہیں۔ مزید برآں، 100 سال سے زیادہ عمر کے ووٹرز کی تعداد 8821 ہے۔ جن میں سے 3283 مرد اور 5538 خواتین ووٹرز ہیں۔ اس کے علاوہ، 109217 سروس ووٹرز ہیں۔ جن میں سے 104426 مرد اور 4791 خواتین ووٹرز ہیں۔امیدواروں میں 930 مرد اور 101 خواتین امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
کل 1031 امیدواروں میں سے 464 آزاد امیدوار ہیں۔الیکشن کثیر الجہتی ہے۔ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اہم اپوزیشن کانگریس کے علاوہ، انتخابی میدان میں جننائک جنتا پارٹی-آزاد سماج پارٹی اتحاد، انڈین نیشنل لوک دل-بہوجن سماج پارٹی اتحاد اور عام آدمی پارٹی بھی ہے۔
سمجھا جاتا ہے کہ اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہے۔ جہاں بی جے پی ‘نان اسٹاپ ہریانہ’ اور ‘بھروسہ دل سے، بی جے پی پھر سے ‘ کے نعروں کے ساتھ ہیٹ ٹرک لگانے کی امید کر رہی ہے، وہیں کانگریس ‘بی جے پی جا رہی ہے، کانگریس آ رہی ہے ‘ اور ‘ہاتھ بدلے گا حالات’ کے نعروں کے ساتھ اقتدار میں واپسی کا دعویٰ کر رہی ہے۔
دوسری پارٹیاں بھی ‘کنگ میکر’ بننے سے لے کر اپنے طور پر حکومت بنانے کے دعوے کر رہی ہیں۔چھوٹی جماعتوں اور رشتہ داروں کے ایک دوسرے کے مدمقابل ہونے اور باغیوں سمیت بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں کے میدان میں ہونے سے سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کا کھیل خراب کرنے کے امکانات کے باعث کئی نشستوں پر مقابلہ سخت اور دلچسپ ہو گیا ہے۔
جن نشستوں پر لوگوں کی نظر ہوگی ان میں کروکشیتر ضلع کی لاڈوا (چیف منسٹر نایب سنگھ سینی یہاں سے امیدوار ہیں)، سونی پت ضلع کی گڑھی سامپلا کلوئی (سابق چیف منسٹر اور اپوزیشن لیڈر بھوپیندر سنگھ ہوڈا امیدوار ہیں)، جند ضلع کی اوچنا کلاں (سابق ڈپٹی چیف منسٹر دشینت چوٹالہ یہاں سے امیدوار ہیں) اور جولانہ (کانگریس نے پہلوان ونیش پھوگاٹ کو ٹکٹ دیا ہے)‘ حصار (یہاں امیر ترین خاتون امیدوار ساوتری جندل بی جے پی سے بغاوت کرتے ہوئے الیکشن لڑ رہی ہیں جب کہ ان کے بیٹے نوین جندل لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پرجیت کر ایم پی بنے ہیں) سرسا ضلع کی ڈبوالی جہاں چوٹالہ کنبہ سے 3 ممبران – کانگریس کے امیت سہاگ، بی جے پی سے آئی این ایل ڈی میں گئے آدتیہ چوٹالہ اور جے جے پی کے دگ وجے چوٹالہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔
ایلن آباد 2019 کے اسمبلی انتخابات میں یہ واحد نشست تھی، جس پرآئی این ایل ڈی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ کسان تحریک کی حمایت میں ابھئے سنگھ چوٹالہ نے استعفیٰ دے دیا تھا اور پھر ضمنی انتخاب جیت لیا تھا۔، بھیوانی ضلع کے توشام (حال ہی میں اپنی ماں کرن چودھری کے ساتھ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں جانے والی بنسی لال خاندان کی شروتی چودھری کا مقابلہ ان کے چچازاد بھائی انیرودھ چودھری سے ہے۔ اور امبالہ شہر و امبالہ چھاؤنی (اس شہر سے جہاں سابق وزیر نرمل سنگھ کانگریس کے امیدوار ہیں، ان کی بیٹی چترا سرورا چھاؤنی سے کانگریس کے خلاف بغاوت کرکے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہی ہیں رہی ہیں اور سابق وزیر داخلہ انل وج کو ٹکر دے رہی ہیں) وغیرہ ہیں۔