بھارت

H-1B، OPT ویزا اور گرین کارڈ کی پریمیم پروسیسنگ فیس میں ایک بار پھر اضافہ، بھارتی شہریوں کے لیے اہم خبر

امریکی امیگریشن حکام نے H-1B ویزا، OPT اور ایمپلائمنٹ بیسڈ گرین کارڈ درخواستوں کی پریمیم پروسیسنگ فیس میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو یکم مارچ سے نافذ ہوگا۔

امریکی امیگریشن حکام نے H-1B ویزا، OPT اور ایمپلائمنٹ بیسڈ گرین کارڈ درخواستوں کی پریمیم پروسیسنگ فیس میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو یکم مارچ سے نافذ ہوگا۔ اس فیصلے کا براہِ راست اثر امریکہ میں کام کرنے والے اور تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی پروفیشنلز، طلبہ اور آجرین پر پڑنے والا ہے، کیونکہ ان زمروں میں بھارتی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

امریکی ادارہ U.S. Citizenship and Immigration Services کے مطابق، فیس میں یہ اضافہ مہنگائی کے تناسب سے کیا گیا ہے، تاکہ ادارے کے انتظامی امور، درخواستوں کے التوا کو کم کرنے اور تیز رفتار فیصلوں کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ پریمیم پروسیسنگ کا استعمال عام طور پر وہ افراد اور کمپنیاں کرتی ہیں جو جلد فیصلہ، ملازمت میں تبدیلی، توسیع یا سفری منصوبہ بندی کے لیے فوری منظوری چاہتی ہیں۔

نظرثانی شدہ فیس کے مطابق، H-1B، L-1، O-1، P-1 اور TN ویزا درخواستوں کے لیے پریمیم پروسیسنگ فیس 2805 ڈالر سے بڑھا کر 2965 ڈالر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ایمپلائمنٹ بیسڈ گرین کارڈ (Form I-140) کے لیے بھی فیس اب 2965 ڈالر ہوگی۔
H-2B اور R-1 ویزا کے لیے فیس 1685 ڈالر سے بڑھ کر 1780 ڈالر ہو گئی ہے۔

طلبہ اور ایکسچینج وزیٹرز کے لیے Form I-539 کے تحت فیس 1965 ڈالر سے بڑھا کر 2075 ڈالر کر دی گئی ہے، جس میں F-1، F-2، J-1، J-2، M-1 اور M-2 شامل ہیں۔
اسی طرح OPT اور STEM-OPT کے لیے Form I-765 کی پریمیم پروسیسنگ فیس 1685 ڈالر سے بڑھا کر 1780 ڈالر کر دی گئی ہے۔

یہ اضافہ بھارتی شہریوں کے لیے اس لیے اہم ہے کیونکہ H-1B ویزا حاصل کرنے والوں میں سب سے بڑی تعداد بھارتیوں کی ہے، جبکہ گرین کارڈ بیک لاگ میں بھی بھارتی درخواست گزار نمایاں ہیں۔ امریکی جامعات سے فارغ التحصیل بھارتی طلبہ بڑی تعداد میں OPT اور STEM-OPT کے ذریعے ملازمت اختیار کرتے ہیں، جو بعد میں H-1B ویزا کا ذریعہ بنتا ہے۔

امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں کو نئی فیس کے مطابق اپنی مالی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو یکم مارچ سے قبل درخواستیں جمع کروانے پر غور کرنا چاہیے۔ پریمیم پروسیسنگ فیس میں بار بار ہونے والا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکی امیگریشن سسٹم میں تیز رفتار سروس اب مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔