امریکہ و کینیڈا

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ کا عالمی ٹیرف بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے عالمی ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) کی شرح کو 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔ یہ قدم امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے محض ایک دن بعد اٹھایا گیا ہے جس میں عدالت نے صدر کے سابقہ وسیع ٹیرف پروگرام کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے عالمی ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) کی شرح کو 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔ یہ قدم امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے محض ایک دن بعد اٹھایا گیا ہے جس میں عدالت نے صدر کے سابقہ وسیع ٹیرف پروگرام کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

متعلقہ خبریں
ٹرمپ کی ریلی میں پھر سکیورٹی کی ناکامی، مشتبہ شخص میڈیا گیلری میں گھس گیا (ویڈیو)
249واں جشنِ آزادی امریکہ: دنیا کی قدیم جمہوریت کا سفر اور ہند-امریکہ تعلقات کی مضبوطی
ڈونالڈ ٹرمپ کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا
کملاہیرس اور ٹرمپ میں کانٹے کی ٹکر متوقع
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی


صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو "انتہائی غیر امریکی” اور "مضحکہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان ممالک پر ڈیوٹی بڑھا رہے ہیں جو دہائیوں سے امریکہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب وہ ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 122 کا استعمال کر رہے ہیں، جو صدر کو بین الاقوامی ادائیگیوں کے توازن کو درست کرنے کے لیے 150 دنوں تک 15 فیصد تک ٹیرف لگانے کا قانونی اختیار دیتا ہے۔


صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بطور صدر 10 فیصد عالمی ٹیرف کو بڑھا کر 15 فیصد کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ متعدد ممالک طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ تجارتی عدم توازن سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، اس لیے ان کی انتظامیہ آئندہ مہینوں میں قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے نئے اور قابلِ نفاذ ٹیرف متعارف کرائے گی۔


یاد رہے کہ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ جس قانون کے تحت صدر نے اضافی ٹیرف عائد کیے وہ قومی ہنگامی حالات کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کے تحت محصولات میں اس نوعیت کا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔


عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے اختیارات کے تحت اقدامات جاری رکھیں گے اور یہ کہ دیگر ممالک کو زیادہ دیر تک فائدہ نہیں ہوگا۔


سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا تھا، جسے اب مزید بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔