حیدرآباد

پروفیسر مسعود احمد کی شاعری زندگی کے تمام شعبوں کی عکاس، کتاب ”رشحاتِ مسعود“ کی رسمِ اجرا، علمی و ادبی شخصیات کا خطاب

معروف ماہرِ تعلیم، منتظم اور طبیب پروفیسر محمد مسعود احمد کی تازہ تصنیف ”رشحاتِ مسعود“ کی رسمِ اجرا ایک باوقار ادبی تقریب میں انجام دی گئی، جس میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد کی شاعری روایتی ڈگر سے ہٹ کر ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔

حیدرآباد: معروف ماہرِ تعلیم، منتظم اور طبیب پروفیسر محمد مسعود احمد کی تازہ تصنیف ”رشحاتِ مسعود“ کی رسمِ اجرا ایک باوقار ادبی تقریب میں انجام دی گئی، جس میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد کی شاعری روایتی ڈگر سے ہٹ کر ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں
مصری گنج میں زیارتِ آثارِ مبارک و جشنِ ولادت سید ناغوث الاعظم دستگیرؒ، روحانی محفل کا شاندار انعقاد
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
تربیت، تفریح اور تخلیق کا حسین امتزاج،عیدگاہ اجالے شاہ سعیدآباد پر سی آئی او کے رنگا رنگ چلڈرن فیسٹیول کا انعقاد
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
ماہ رمضان المبارک کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے!، گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کواَن انسٹال کریں: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد مینجمنٹ، تدریس اور طب جیسے مختلف میدانوں سے وابستہ ہونے کے باوجود اردو ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں، جو قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر مسعود اب تک نو کتابیں شائع کرچکے ہیں اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے اردو اکیڈمی کی مالی اعانت کے بغیر اپنی کتب شائع کیں، جو ان کی زبانِ اردو سے سچی محبت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد آج اردو کا اہم مرکز بن چکا ہے اور تلنگانہ کے اردو میڈیم مدارس میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کی تعلیم اس کا روشن ثبوت ہے۔

سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس آندھرا پردیش و تلنگانہ جناب انوار الہدیٰ نے پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دکنی اردو اپنی لسانی آمیزش کے سبب منفرد مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث اردو اخبارات اور رسائل کے قارئین میں کمی آرہی ہے، تاہم ایسے حالات میں پروفیسر مسعود کی ادبی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم اور مسابقتی امتحانات میں اردو زبان کو اختیار کریں اور کارپوریٹ شعبے میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

صدر نشین مائناریٹی کمیشن تلنگانہ جناب طارق انصاری نے کہا کہ یہ تقریب محض رسمی اجتماع نہیں بلکہ ادب سے محبت کی داستان ہے۔ انہوں نے پروفیسر مسعود کی فکری گہرائی اور ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر محمد مسعود احمد نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آٹھ برسوں میں نو کتابیں تصنیف کی ہیں اور فارسی زبان سے بھی خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب بیس سے زائد بحور میں لکھی گئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے چند اشعار بھی سنائے، جنہیں سامعین نے بے حد سراہا۔

تقریب کے بعد ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں ایک شاندار مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف شہروں سے آئے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ طنز و مزاح کے شعرا نے بھی اپنے کلام سے محفل کو زعفران زار بنایا۔ ممتاز گلوکار عدنان سالم نے پروفیسر مسعود کی غزل پیش کی، جسے حاضرین نے خوب پسند کیا۔

آخر میں پروفیسر محمد مسعود احمد کے اظہارِ تشکر کے ساتھ تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔