حیدرآباد

ریونت ریڈی‘ ناتجربہ کار،حکومت کی ناقص پالیسیوں سے طلبہ کو مصائب کا سامنا: کے ٹی آر

کے ٹی آر نے کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں ہرضلع میں میڈیکل ونرسنگ کالج اور نرسنگ کالج نہیں ہے مگر بی آرایس حکومت نے ہر ضلع میں میڈیکل ونرسنگ کالج قائم کرتے ہوئے ایک اہم سنگ میل حاصل کرلیا۔

حیدرآباد: بی آرایس کے کارگزار صدر کے تارک راماراؤ نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات ومصائب کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں
جو کچھ تھا، ٹریلر تھا، عوام کو ابھی بہت دیکھنا باقی ہے: کے ٹی آر
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میڈارم کا دو روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف

 حکومت کی جانب سے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپس جایر نہ کرنے کے باعث طلبہ پریشان ہیں۔ آج تلنگانہ بھون میں بی آرایس کی طلبہ تنظیم کے نمائندوں کے ساتھ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدارپرآنے کے بعد ریاست کے عوام بالخصوص کسان اور طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے لئے بی آرایس نے ہی تحریک چلائی تھی اب وہ عوام کے مسائل حل کروانے کے لئے حکومت کے خلاف آوازاٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر‘اے ریونت ریڈی جنہیں حیدرآباد اور تلنگانہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں‘ نے حیدرآباد کے اطراف 3 سمندرہونے کا احمقانہ بیان دیا ہے۔

 انہوں نے ریاست کا نظم ونسق ایک ناتجربہ کار اور بنیادی معلومات سے محروم شخص کے ہاتھوں میں  چلاگیا ہے۔ انہوں نے سابق بی آرایس کے دورحکومت میں 95 فیصد ملازمتیں مقامی لوگوں کو حاصل ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں ہرضلع میں میڈیکل ونرسنگ کالج اور نرسنگ کالج نہیں ہے مگر بی آرایس حکومت نے ہر ضلع میں میڈیکل ونرسنگ کالج قائم کرتے ہوئے ایک اہم سنگ میل حاصل کرلیا۔

 انہوں نے کہا کہ سابق بی آرایس حکومت میں غریبوں کے نونہالوں کو معیاری تعلیم دینے کیلئے 1000سے زیادہ اقامتی اسکولوں کا قیام عمل میں لایاگیا تھا۔ سابق حکومت نے ایک طالب علم پرسالانہ کے تعلیمی اخراجات کے طور پر ایک لاکھ 25ہزار روپئے خرچ کئے تھے۔