تلنگانہ

تلگو ریاستوں کے درمیان سفر میں انقلاب۔کھمم۔دیورپلی گرین فیلڈ ہائی وے اپریل سے کارکرد ہونے کی توقع

4,451.87 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ باوقار منصوبہ تلنگانہ کے ضلع کھمم کے تلمپاڈہ سے شروع ہو کر آندھرا پردیش کے دیورپلی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس شاہراہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں تلگو ریاستوں کی پہلی ایکسیس کنٹرولڈ گرین فیلڈ سڑک ہے۔

حیدرآباد: ملک کی تیز رفتار ترقی میں بنیادی ڈھانچہ بالخصوص ٹرانسپورٹ نظام کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت ہند کی جانب سے ملک بھر میں شاہراہوں کی توسیع کے منصوبوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
سنکرانتی منانے گھر آیا نوجوان پراسرار حالات میں مردہ پایاگیا
قومی شاہراہوں پر عنقریب نیا ٹول سسٹم:نتن گڈکری
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر ناگیشور راؤ برخاست، اردو میڈیم اسکول کے طلبہ منتقلی معاملہ میں بڑی کارروائی
بوہرہ کمیونٹی میں ہر گھر میں حافظ قرآن بنانے کا ہدف اور معاشرہ ، تعلیم و صحت پر توجہ،ڈاکٹر الیاس نجمی

اسی مقصد کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے کھمم اور دیورپلی کے درمیان 162 کلومیٹر طویل 4لین ایکسیس کنٹرولڈ گرین فیلڈ ہائی وے کی تعمیر مکمل کر لی ہے جس کے اپریل تک آغاز کی توقع ہے۔


4,451.87 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ باوقار منصوبہ تلنگانہ کے ضلع کھمم کے تلمپاڈہ سے شروع ہو کر آندھرا پردیش کے دیورپلی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس شاہراہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں تلگو ریاستوں کی پہلی ایکسیس کنٹرولڈ گرین فیلڈ سڑک ہے۔

162 کلومیٹر میں سے 106 کلومیٹر کا حصہ تلنگانہ اور 57 کلومیٹر آندھرا پردیش میں واقع ہے۔ اس ہائی وے کے کارکرد ہونے سے حیدرآباد اور وشاکھاپٹنم کے درمیان فاصلہ تقریباً 56 کلومیٹر کم ہو جائے گا جس سے مسافروں کے 2 سے 4 گھنٹے بچ سکیں گے۔


اس منصوبے میں جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پوری شاہراہ پر 10 بڑے پل، 49 چھوٹے پل، 295 کلورٹس اور 98 انڈر پاسس تعمیر کئے گئے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے تعمیرات میں این ٹی پی سی راما گنڈم کی فلائی ایش کا استعمال کیا گیا ہے۔


انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز نمونہ اس کا بو۔اسٹرنگ گرڈر برج ہے جو ریلوے ٹریک کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ 350 ٹن وزنی اس پل کو ریلوے ٹریفک میں خلل ڈالے بغیر، ٹریک سے دور اسمبل کر کے ہائیڈرولک سسٹم کے ذریعہ سلائیڈ کر کے نصب کیا گیا ہے۔ یہ پل اگلے 150 سالوں تک پائیدار رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


شاہراہ پر مسافروں کے تحفظ کے لئے ایڈوانسڈ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ یہ سسٹم تیز رفتاری، سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنے اور غلط سمت میں ڈرائیونگ جیسی خلاف ورزیوں کی فوری نشاندہی کر کے حکام کو مطلع کرے گا جس پر خودکار چالان جاری ہوں گے۔


یہاں صرف طے کردہ فاصلہ کی بنیاد پر ٹول وصول کیا جائے گا۔ ہر 5 کلومیٹر پر ایمرجنسی میڈین اوپننگ دی گئی ہے تاکہ حادثات کی صورت میں ٹریفک کو فوری موڑا جا سکے۔ ہر 30 کلومیٹر پر ایمبولینس، ٹوینگ گاڑیاں اور این ایچ اے آئی کی ہیلپ لائن (1033) دستیاب ہوگی۔ اس کے علاوہ ہر 2 کلومیٹر پر 360 ڈگری سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔


شاہراہ کے دونوں اطراف ہر 50 کلومیٹر پر 5 ایکڑ رقبہ پر وے سائیڈ ایمینیٹیز تیار کی جا رہی ہیں جن میں ہوٹل، پٹرول پمپ، واش رومس اور ٹرک ڈرائیوروں کے لئے آرام گاہیں شامل ہوں گی۔ مسافر سڑک پر لگے کیوآرکوڈس کو اسکین کر کے قریبی پولیس اسٹیشن یا پٹرول پمپ کی معلومات حاصل کر سکیں گے۔


حکام کا ماننا ہے کہ یہ میگا پروجیکٹ نہ صرف ایندھن اور وقت کی بچت کرے گا بلکہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تجارت، لاجسٹکس اور سیاحت کو ایک نئی بلندی عطا کرے گا۔