حیدرآباد کے موسیٰ ندی کی بحالی کا روڈ میاپ تیار، مارچ کے اختتام تک لاگت طے ہوگی: ریونت ریڈی
ریونت ریڈی نے باپو گھاٹ کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں مہاتما گاندھی کی راکھ سپردِ آب کی گئی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کاکاتیہ اور نظام دور میں دریائی بیسن کے اطراف آبی منصوبے تیار کیے گئے تاکہ آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ موسیٰ ندی کی بحالی (ری جنوینیشن) پروجیکٹ کے تمام تخمینے 31 مارچ تک حتمی کر لیے جائیں گے، جس کے بعد کاموں کے آغاز کے لیے ٹینڈرز طلب کیے جائیں گے۔
چیف منسٹر نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے اس منصوبے کے لیے 4,000 کروڑ روپے کے قرض پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ مرکزی حکومت نے بھی پروجیکٹ کے حصے کے طور پر گاندھی سروور کی ترقی کی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسیٰ پروجیکٹ کے لیے تفصیلی پراجیکٹ رپورٹ (DPR) تیار کی جا رہی ہے اور اسے حتمی شکل دینے سے قبل تمام ارکانِ اسمبلی کو پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے بریف کیا جائے گا۔
ریونت ریڈی نے باپو گھاٹ کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں مہاتما گاندھی کی راکھ سپردِ آب کی گئی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کاکاتیہ اور نظام دور میں دریائی بیسن کے اطراف آبی منصوبے تیار کیے گئے تاکہ آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
چیف منسٹر نے کہا کہ 1908 کے سیلاب کے بعد نظاموں کی جانب سے تعمیر کردہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لندن، نیویارک، جاپان، جنوبی کوریا اور سنگاپور جیسے عالمی شہروں کے ماڈلز سے تلنگانہ کے دریائی بحالی منصوبے کو تحریک ملی ہے۔
سابرمتی اور گنگا ریور فرنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کی اور کہا کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر موسیٰ پروجیکٹ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
چیف منسٹر نے نلگنڈہ میں صنعتی فضلے کے باعث بڑھتی آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا، جس سے خاص طور پر خواتین کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گوداوری سے 20 ٹی ایم سی پانی منتقل کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں 15 ٹی ایم سی پینے کے پانی کے لیے اور 5 ٹی ایم سی موسیٰ میں صاف بہاؤ برقرار رکھنے کے لیے مختص کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت منچریولا کے قریب واقع قدیم شیو مندر کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے گردوارہ، مسجد اور چرچ کی تعمیر بھی شامل ہے۔
خود پر لگائے گئے “ریئل اسٹیٹ بروکر” ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ شہری ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔
انہوں نے گنڈی پیٹ سے گوریلا تک 55 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ کاریڈور کی تعمیر کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ حکومت کا مقصد حیدرآباد کو ایک عالمی معیار کا شہر بنانا ہے۔